ملتان (ویب ڈیسک) جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ وہ جبر اور دباؤ کی بنیاد پر کی جانے والی کسی بھی قانون سازی کو تسلیم نہیں کرتے۔ جامعہ قاسم العلوم ملتان میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے موجودہ پارلیمنٹ کی کارکردگی اور حکومتی اکثریت پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ حکومت کو محض ایک سال کے دوران اچانک کیسے دو تہائی اکثریت حاصل ہو گئی؟
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے ارکان کے ہاتھ مروڑ کر اور زبردستی ان سے ووٹ ڈلوائے گئے، جو کہ جمہوری اقدار کے منافی عمل ہے۔ انہوں نے 27 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے بھی سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون سازی بغیر کسی مشاورت کے کی گئی ہے جو ناقابل قبول ہے۔ مدارس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے جے یو آئی کے سربراہ نے واضح کیا کہ ملک میں شدت پسندی اور انتہا پسندی کی وجہ مدارس نہیں ہیں بلکہ اس کے اسباب کہیں اور تلاش کرنے کی ضرورت ہے، مدارس ہمیشہ سے دین کی خدمت اور امن کے گہوارے رہے ہیں۔