خضدارحبیب غلامانی): بلوچستان میں ایرانی تیل کی اسمگلنگ پر کریک ڈاؤن، لاکھوں خاندانوں کا معاشی قتل اور بیروزگاری کا نیا طوفان برپا
بلوچستان میں ایرانی تیل اور ڈیزل کی اسمگلنگ کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن کے نتیجے میں صوبے بھر میں شدید معاشی بحران اور بیروزگاری کی لہر دوڑ گئی ہے، جس نے لاکھوں غریب خاندانوں کے چولہے ٹھنڈے کر دیے ہیں۔ ماہرین اور مقامی تاجروں کے مطابق، ایرانی تیل کی یہ تجارت طویل عرصے سے صوبے کے نوجوانوں، ٹرانسپورٹرز اور دیہاڑی دار طبقے کے لیے واحد ذریعہ معاش رہی ہے، اور کسی متبادل روزگار کے بغیر اس کی اچانک بندش نے پورے صوبے کو مزید پسماندگی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق بلوچستان کی تقریباً 22 سے 24 لاکھ آبادی براہِ راست یا بالواسطہ اس کاروبار سے وابستہ تھی، جو پاکستانی پیٹرولیم مصنوعات کے مقابلے میں 50 سے 60 روپے فی لیٹر سستا ہونے کی وجہ سے سرحدی علاقوں کے ڈرائیورز اور چھوٹے پمپ مالکان کا سہارا تھا۔ حالیہ مہینوں میں سکیورٹی فورسز اور حکومت کی مشترکہ کارروائیوں سے تیل کی آمد روزانہ 20.5 ملین لیٹر سے گھٹ کر محض 2.7 ملین لیٹر رہ گئی ہے، جبکہ کوئٹہ سمیت دیگر شہروں میں 600 سے زائد غیر قانونی پمپس سیل اور ہزاروں گاڑیاں ضبط کی جا چکی ہیں۔
مقامی ڈرائیورز اور تاجروں نے اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے ان کی روزی روٹی تو چھین لی لیکن متبادل کے طور پر نہ تو صنعتیں لگائیں اور نہ ہی نوکریوں کا کوئی بندوبست کیا، جس کی وجہ سے نوجوان بیروزگاری کی دلدل میں دھنس کر شدت پسندی کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔ ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس کریک ڈاؤن سے قومی خزانے کو اربوں روپے کے نقصان سے بچایا جا رہا ہے، مگر بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے میں جہاں پہلے ہی بنیادی سہولیات کا فقدان ہے، وہاں بغیر منصوبہ بندی کے یہ اقدام سماجی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب حکومت کا موقف ہے کہ اسمگلنگ ملکی معیشت اور سکیورٹی کے لیے زہرِ قاتل ہے اور اس کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رہے گی، تاہم عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر سرحدی مارکیٹس قائم کرے اور روزگار کے قانونی مواقع پیدا کرے تاکہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے لاکھوں خاندانوں کو فاقہ کشی سے بچایا جا سکے