کراچی (ویب ڈیسک): "بے نظیر بھٹو نے مسجدِ نبوی ﷺ میں کھڑے ہو کر مجھے اپنا بھائی بنایا تھا”، گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے بی بی کی 18ویں برسی پر ماضی کے گوشے بے نقاب کر دیے
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی 18ویں برسی کے موقع پر گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے بی بی کی شخصیت کے حوالے سے انتہائی جذباتی اور منفرد انکشافات کر کے سب کو حیران کر دیا ہے۔ ایک حالیہ انٹرویو میں گورنر سندھ نے بتایا کہ سنہ 2000 کے اوائل میں جب بینظیر بھٹو جلاوطنی کے دوران اپنے پاسپورٹ تک سے محروم تھیں، تو انہوں نے محض 13 دنوں میں بی بی کو پاسپورٹ جاری کروا کر اپنا وعدہ نبھایا تھا، جس کے بعد ان کا بی بی سے تعلق ایک سیاسی لیڈر کے بجائے بہن اور بھائی کے رشتے میں بدل گیا۔ کامران ٹیسوری کے مطابق سعودی عرب کے دورے کے دوران مسجد نبوی ﷺ میں کھڑے ہو کر بینظیر بھٹو نے انہیں اپنا بھائی بنایا تھا اور اس چار سالہ طویل رفاقت کے دوران وہ دبئی میں اکثر بی بی سے ملاقات کرتے اور ان کی گاڑی خود ڈرائیو کرتے تھے، جبکہ ان ملاقاتوں میں ڈاکٹر عاصم حسین بھی موجود ہوتے تھے۔
گورنر سندھ نے بی بی کی کرشماتی شخصیت کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ شہید بی بی نے ان کی سالگرہ پر انہیں قیمتی ‘کفلنگ’ کا تحفہ دیا تھا اور بی بی نے آصف علی زرداری کے ہمراہ ان کی یاٹ (Yacht) پر آ کر سالگرہ کا کیک بھی کاٹا تھا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ 18 اکتوبر 2007 کو جب بینظیر بھٹو نے اپنی تاریخی وطن واپسی کی، تو جہاز سے اترنے کے بعد انہوں نے اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے ڈاکٹر عاصم کے فون سے پہلی کال کامران ٹیسوری کو کی اور کہا کہ "کامران بھائی، میں نے کہا تھا کہ پاکستان پہنچ کر پہلی کال آپ کو کروں گی”۔ کامران ٹیسوری کا کہنا ہے کہ وہ لوگ جو بی بی سے ملے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ ان کی دانش مندی اور وقار کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
ایم کیو ایم پاکستان سے وابستگی اور پیپلز پارٹی کے سیاسی حریف ہونے کے باوجود بینظیر بھٹو کے احترام کے حوالے سے کیے گئے سوال پر گورنر سندھ نے دوٹوک انداز میں کہا کہ وہ آج بھی دل سے بی بی کو اپنی بہن مانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 18 اکتوبر اور 27 دسمبر کی تاریخیں پورے پاکستان کو یاد دلاتی ہیں کہ ہم نے ایک زیرک اور عظیم رہنما کو کتنی جلدی کھو دیا۔ کامران ٹیسوری نے واضح کیا کہ چاہے وہ اب ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم سے گورنر کے عہدے پر فائز ہوں، صدر آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کی قیادت سے ان کا احترام اور محبت کا رشتہ آج بھی قائم ہے کیونکہ بینظیر بھٹو کے ساتھ ان کا رشتہ سیاست سے بالاتر اور خالصتاً خونی رشتوں جیسی پاکیزگی پر مبنی تھا۔