تل ابیب (ویب ڈیسک): اسرائیل کے شمالی علاقے میں چاقو بردار شخص کا حملہ، دو یہودی ہلاک اور دو شدید زخمی، پولیس نے حملہ آور کو مار گرایا

اسرائیل کے شمالی علاقے میں ایک فلسطینی نوجوان کی جانب سے مبینہ طور پر گاڑی چڑھا کر اور چاقو کے وار کر کے کیے گئے حملے میں دو یہودی ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق حملہ آور نے پہلے اپنی تیز رفتار گاڑی راہگیروں پر چڑھا دی، جس کی زد میں آ کر ایک 68 سالہ خاتون موقع پر ہی ہلاک ہو گئیں، جس کے بعد حملہ آور نے گاڑی سے نکل کر بس اسٹاپ پر موجود لوگوں پر چاقو سے اندھا دھند وار کیے۔ ان واروں کے نتیجے میں ایک 19 سالہ لڑکی شدید زخمی ہوئی جو ہسپتال منتقل کیے جانے کے دوران راستے میں ہی دم توڑ گئی۔ حملے میں دو دیگر افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے جن کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اسرائیلی پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے تعاقب کے بعد حملہ آور کو گھیرے میں لے لیا اور اسے گرفتاری دینے کا کہا، تاہم اس نے اہلکاروں پر بھی حملے کی کوشش کی جس پر پولیس نے جوابی فائرنگ کرتے ہوئے اسے ہلاک کر دیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آور کی شناخت جنین کے قریب واقع شمالی مغربی کنارے کے شہر قباطیہ کے رہائشی کے طور پر کی جا رہی ہے، تاہم اسرائیلی حکام اس بات کی مزید تصدیق کر رہے ہیں کہ آیا یہ حملہ کسی منظم گروہ کی کارروائی تھی یا حملہ آور نے انفرادی طور پر اسے انجام دیا۔ واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور اسرائیل کے اندر حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جسے تجزیہ کار غزہ پر جاری اسرائیلی بمباری اور مظالم کا ردعمل قرار دے رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے