کراچی (ویب ڈیسک) حکومتِ سندھ نے کالج ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے تحت برطانیہ کی عالمی شہرت یافتہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے "بھٹو اسٹیم اسکالرشپ” 27-2026 کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ یہ تاریخی اقدام رواں سال کے اوائل میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی قیادت میں آکسفورڈ پاکستان پروگرام کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت اٹھایا گیا ہے۔ وزیرِ تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے اس اسکالرشپ کو سندھ کے باصلاحیت طلبہ کے لیے ایک عظیم تحفہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا بنیادی مقصد سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (STEM) جیسے اہم مضامین میں اعلیٰ تعلیم کے خواہش مند طلبہ کی بھرپور حوصلہ افزائی کرنا ہے تاکہ وہ عالمی سطح پر ملک و قوم کا نام روشن کر سکیں۔

اسکالرشپ کے طریقہ کار اور اہلیت کے مطابق، سندھ سے تعلق رکھنے والے گریجویٹ، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے امیدوار اس پروگرام کے لیے درخواست دینے کے اہل ہوں گے، تاہم انتخاب کے لیے آکسفورڈ یونیورسٹی کے مقرر کردہ سخت میرٹ اور انگریزی زبان میں مہارت کے تقاضوں پر پورا اترنا لازمی ہوگا۔ درخواست گزاروں کے لیے سندھ کا ڈومیسائل اور شناختی کارڈ ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ شارٹ لسٹ کیے گئے امیدواروں کو انٹرویو کے کڑے عمل سے گزرنے کے بعد فائنل کیا جائے گا۔ یہ تعلیمی وظائف آکسفورڈ یونیورسٹی کے معروف لیڈی مارگریٹ ہال میں تعلیم کے لیے فراہم کیے جائیں گے، جہاں منتخب طلبہ کو جدید ترین تحقیق اور تعلیمی ماحول میسر آئے گا۔

حکومتِ سندھ نے اس پروگرام میں صنفی برابری کو یقینی بنانے کے لیے مرد و خواتین امیدواروں کو یکساں مواقع فراہم کیے ہیں، جس کے تحت خواتین امیدواروں کے لیے "شہید بے نظیر بھٹو انیشی ایٹو” کے تحت خصوصی کوٹہ مختص کیا گیا ہے، جبکہ اوپن میرٹ پر "شہید ذوالفقار علی بھٹو انیشی ایٹو” کے تحت وظائف دیے جائیں گے۔ اسکالرشپ کی فراہمی اور طلبہ کے حتمی انتخاب کا تمام تر عمل کالج ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور آکسفورڈ پاکستان پروگرام کے مشترکہ تعاون سے انجام پائے گا، جس سے صوبے کے ان باصلاحیت مگر معاشی طور پر کمزور طلبہ کو فائدہ پہنچے گا جو عالمی معیار کی یونیورسٹیوں میں پڑھنے کا خواب دیکھتے ہیں۔