پاکستان کی معیشت میں نمایاں بہتری کے اثرات عالمی سطح پر نمایاں ہونے لگے ہیں اور بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستانی معیشت کے استحکام کا اعتراف کر لیا ہے۔ عالمی ریٹنگ ایجنسیوں "گیلپ” اور "ڈی اینڈ بی” کی حالیہ رپورٹس کے مطابق پاکستان میں صارفین کے اعتماد میں 19 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو کہ ملکی معاشی سمت پر عوام اور کاروباری طبقے کے بھرپور اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مارچ 2022 کے بعد پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 21.1 بلین ڈالر کی تاریخی سطح پر پہنچ گئے ہیں، جو ملک کی مالیاتی پوزیشن کو مستحکم کرنے میں سنگ میل ثابت ہوئے ہیں۔ ماہرین اس بڑی تبدیلی کو اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی بہترین سہولت کاری، معاشی اصلاحات اور مربوط کاوشوں کا ثمر قرار دے رہے ہیں، جس کے باعث نہ صرف مالی عدم تحفظ میں کمی آئی ہے بلکہ عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہوا ہے۔
معاشی ماہرین نے ان اعداد و شمار کو پاکستان کے لیے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ 28 سے 30 ماہ کے دوران ملک نے میکرواکنامک استحکام کا مشکل سفر کامیابی سے طے کیا ہے۔ ماہر معیشت خاقان نجیب کے مطابق پاکستان نے اس عرصے میں بیرونی اکاؤنٹ میں درآمدات کو کنٹرول میں رکھا اور کرنٹ اکاؤنٹ میں سرپلس حاصل کیا، جس سے معیشت کو سہارا ملا۔ اسی طرح ماہر معیشت اشفاق تولہ کا کہنا ہے کہ صارفین کے اعتماد میں اضافہ حکومت اور ایس آئی ایف سی کے ٹھوس اقدامات کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ معاشی اصلاحات کے تسلسل اور مستحکم پالیسیوں کی بدولت پاکستان اب ایک پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن نظر آ رہا ہے، جس کی تائید عالمی مالیاتی ادارے اور ریٹنگ ایجنسیاں بھی کر رہی ہیں۔