بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے پارٹی قیادت اور مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کا جو بھی لیڈر اس وقت مذاکرات کی بات کر رہا ہے، وہ نہ تو بانی پی ٹی آئی کا ساتھی ہے اور نہ ہی وہ پارٹی کے نظریے کے ساتھ کھڑا ہے۔ انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان نے اب اسٹریٹ موومنٹ کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس حوالے سے اپنا حتمی پیغام خیبر پختونخوا کی قیادت تک پہنچا دیا ہے۔ علیمہ خان نے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے دو روزہ کانفرنس کے اعلامیے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی توجہ بانی پی ٹی آئی کے عوامی احتجاج کے مشن پر مرکوز ہے۔

علیمہ خان نے مزید کہا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ کیس مکمل طور پر بوگس ہے اور اسے سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بانی پی ٹی آئی نے حال ہی میں قوم کے نام پیغام بھیجا ہے جس میں انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنے نظریے اور قوم کے بہتر مستقبل کے لیے شہادت قبول کرنے کو بھی تیار ہیں لیکن اپنے اصولی موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ عدالت میں پیشی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ عمران خان کو مطالعے کے لیے 11 کتابیں بھیجی گئی تھیں، جن میں سے جج صاحب کے مطابق 9 کتابیں ان تک پہنچائی جا چکی ہیں۔ علیمہ خان نے گزشتہ سال نومبر کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے بانی کا پیغام عوام تک پہنچایا، جبکہ وہ صرف ایک پرامن احتجاج کی کال تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے