گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ نے جاتی امرا لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علاقے کی مسلسل حق تلفی پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور علیحدہ صوبے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر عوامی محرومیوں کا ازالہ نہ کیا گیا تو گلگت بلتستان میں بھی آزاد کشمیر کی طرز پر بڑی احتجاجی تحریک سر اٹھا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے قدرتی وسائل سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے لیکن خود وہاں کے عوام کو ان کے ثمرات سے محروم رکھا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے خطے میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مرکز میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی اتحادی حکومت ہونے کے باوجود گلگت بلتستان کو اس کا جائز حق نہیں مل رہا، وفاقی وزیر احسن اقبال نے خطے کے دورے کے دوران 200 میگا واٹ بجلی کی فراہمی کا وعدہ کیا تھا لیکن تاحال اس پر کوئی عملدرآمد نہیں ہو سکا، اب ہمارا مطالبہ ہے کہ اگر 200 میگا واٹ ممکن نہیں تو کم از کم 50 میگا واٹ ہی فراہم کر دی جائے۔

مہدی شاہ نے آئینی ترامیم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 27 ویں ترمیم میں ہمارے دو اہم مطالبات تھے جن میں سے ایک اسمبلی نشستوں کی تعداد 24 سے بڑھا کر 30 کرنا شامل تھا، جسے پورا ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے عوام اپنی مرضی سے پاکستان میں شامل ہوئے تھے لیکن آج انہیں متنازع قرار دے کر بنیادی سہولتوں سے دور رکھا جا رہا ہے، حالانکہ ملک بھر میں بجلی کی پیداوار کے لیے استعمال ہونے والا پانی ہمارے پہاڑوں سے ہی آ رہا ہے۔ سابقہ حکومتوں کی پالیسیوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کے علاقوں پر قبضہ کر لیا لیکن اس وقت کی قیادت اور عمران خان نے دور اندیشی سے کام نہیں لیا، اگر بروقت درست فیصلے کیے جاتے تو شاید آج صورتحال مختلف ہوتی۔

گورنر گلگت بلتستان نے اپنی ہی اتحادی حکومت سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ انہوں نے پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں بھی یہ بات واضح کر دی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کا اتحادی ہونا ہمارے لیے اب تک سودمند ثابت نہیں ہوا۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے 100 میگا واٹ بجلی دینے کے حالیہ وعدے پر امید ظاہر کی کہ شاید اس بار اسے پورا کیا جائے۔ مہدی شاہ نے واضح کیا کہ ہر صوبہ اپنے حصے کے وسائل کا مطالبہ کر رہا ہے اور جب تک گلگت بلتستان کو علیحدہ صوبہ بنا کر اس کا این ایف سی شیئر مقرر نہیں کیا جاتا، محرومیاں ختم نہیں ہوں گی، لہٰذا وفاق کو چاہیے کہ وہ خطے کی جغرافیائی اہمیت اور عوام کے جذبات کو سمجھتے ہوئے فوری عملی اقدامات کرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے