اسلام آباد(ویب ڈیسک)اپوزیشن رہنماؤں نے توشہ خانہ ٹو کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو دی گئی سزا کی شدید مذمت کی ہے اور اسے انصاف کے منافی قرار دیا ہے۔

خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم اس فیصلے کی مذمت کرتے ہیں اور اس طرح کے فیصلے عوام میں انتشار پھیلانے کا باعث بنیں گے۔

تحریک تحفظ آئین کے سربراہ محمود اچکزئی نے کہا کہ حق کی بات کرنے والوں کو سزا دینا انصاف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اربوں روپے کی چوریاں اور کرپشن سب کو معلوم ہے، لیکن ضمیر بیچنے یا خریدنے والے ہی اچھے پاکستانی قرار پاتے ہیں۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے اختر مینگل نے کہا کہ توشہ خانہ کیس میں بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کو دی گئی سزا کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا پہلے وزرائے اعظم نے توشہ خانہ سے کچھ نہیں لیا اور ان کو سزا ملی؟ اختر مینگل نے کہا کہ جنہوں نے ملک اور آئین توڑا، انہیں گارڈ آف آنر کے ساتھ رخصت کیا گیا، جبکہ عام شہری انصاف سے محروم رہتے ہیں۔

علامہ ناصر عباس نے کہا کہ ملک کے عوام اور پارلیمنٹ غیر متعلقہ ہوچکی ہے، انصاف نہیں مل رہا اور حکومت کی کوشش ہے کہ عوام مایوس ہوں، لیکن یہ کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔

مسلم لیگ کے رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کو ملنے والی سزا صرف سیاستدانوں کے خلاف نہیں، بلکہ عوام کی آواز بلند کرنے والوں کو بھی مقدمات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹے مقدمات سے سیاسی مخالفین کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

پیپلز پارٹی کے فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ یہ فیصلے انصاف کے نظام کو بے نقاب کرتے ہیں اور عدالتوں سے عوام کو انصاف نہیں مل رہا۔ انہوں نے کہا کہ جعلی فیصلوں سے خلا پیدا ہو رہا ہے جو خطرناک ہے، اور اقوام متحدہ کی رپورٹ بھی واضح کرتی ہے کہ یہ کارروائیاں نہ آئینی ہیں نہ قانونی، بلکہ غیر انسانی ہیں۔

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے زبیر عمر نے کہا کہ سابق وزیر اعظم کو دی گئی سزا پر دکھ ہوا ہے اور ملک میں عدلیہ کو ختم کر دیا گیا ہے، بغیر ٹرائل کے فیصلے عوام کا اعتماد ختم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنہیں سزائیں دی گئی ہیں، ان کا جرم واضح نہیں اور 70 سال سے زائد عمر کے رہنماؤں کو بھی سزا سنائی گئی ہے، جو غیر منصفانہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے