بھارتی پولیس کا بتانا ہے کہ آسٹریلیا کے بونڈی بیچ میں فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہونے والا حملہ آور ساجد اکرم دراصل بھارتی ریاست تلنگانہ کے شہر حیدرآباد کا رہائشی تھا تاہم بھارت میں اپنے خاندان سے اس کے رابطے محدود تھے۔
سڈنی کے معروف ساحلی علاقے بونڈی بیچ پر 14 دسمبر 2025 کو ہونے والے دہشت گرد حملے سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔ آسٹریلوی پولیس اور اے بی سی نیوز آسٹریلیا کے مطابق یہ حملہ یہودی برادری کو نشانہ بنانے کے لیے یہودی تہوار حنوکا کی تقریب کے دوران کیا گیا، جس میں سینکڑوں افراد شریک تھے۔ حملہ آوروں کی فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے، جن میں کئی کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
سی این این اور این بی سی نیوز کے مطابق حملہ آور باپ بیٹے تھے، جن کی شناخت 50 سالہ ساجد اکرم اور 24 سالہ نوید اکرم کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس کی جوابی کارروائی میں ساجد اکرم موقع پر ہلاک ہو گئے جبکہ نوید اکرم زخمی حالت میں گرفتار ہیں۔ آسٹریلوی حکام نے حملے کو داعش سے متاثر انتہا پسندانہ دہشت گردی قرار دیا ہے۔
تلنگانہ پولیس اور بھارتی اخبار دی ہندو نے تصدیق کی ہے کہ ساجد اکرم بھارتی نژاد تھے اور ان کا تعلق حیدرآباد سے تھا۔ وہ 1998 میں آسٹریلیا منتقل ہوئے، ابتدا میں سٹوڈنٹ ویزا پر گئے اور بعد ازاں آسٹریلوی شہریت حاصل کی۔ تلنگانہ پولیس کے مطابق ساجد اکرم نے 1998 کے بعد کم از کم چھ مرتبہ بھارت کا دورہ کیا، تاہم ان دوروں کے دوران کسی مشکوک یا انتہا پسندانہ سرگرمی کا کوئی ریکارڈ سامنے نہیں آیا۔
خبر رساں ادارے رویٹرز کے مطابق حملہ آوروں نے نومبر 2025 میں فلپائن کا سفر بھی کیا تھا، جہاں ممکنہ طور پر ملٹری طرز کی تربیت حاصل کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ساجد اکرم نے اس سفر کے لیے بھارتی پاسپورٹ جبکہ نوید اکرم نے آسٹریلوی پاسپورٹ استعمال کیا۔ بی بی سی اور اے بی سی نیوز آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ یہ دورہ حملے کی تیاری کا حصہ ہو سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔
آسٹریلوی حکام کے مطابق تحقیقات کو بین الاقوامی سطح پر وسعت دی جا رہی ہے اور بھارتی پولیس کے ساتھ مسلسل معلومات کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ واقعے کے بعد آسٹریلوی وزیراعظم نے اسلحہ قوانین مزید سخت کرنے کا عندیہ دیا ہے، جبکہ بی بی سی، رویٹرز، سی این این اور عالمی رہنماؤں نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے۔