سڈنی کے معروف بونڈائی ساحل پر یہودیوں کی تقریب پر ہونے والے مبینہ دہشت گردانہ حملے کو دو روز گزر چکے ہیں، تاہم حملہ آور باپ بیٹے کی قومیت سے متعلق سوالات اب بھی زیرِ بحث ہیں۔ پولیس کے مطابق حملہ آوروں کی شناخت 50 سالہ ساجد اکرم اور ان کے 24 سالہ بیٹے نوید اکرم کے طور پر ہوئی ہے۔ جوابی کارروائی میں ساجد موقع پر ہلاک جبکہ نوید زخمی حالت میں گرفتار ہوئے، جن کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

منیلا میں فلپائنی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ساجد اکرم نے حالیہ سفر کے دوران انڈین پاسپورٹ جبکہ نوید اکرم نے آسٹریلوی پاسپورٹ استعمال کرتے ہوئے فلپائن کا رخ کیا تھا۔ نیو ساؤتھ ویلز کے پولیس کمشنر میل لیون کے مطابق دونوں کے فلپائن کے دورے کی تصدیق ہو چکی ہے اور اس سفر کے مقاصد اور وہاں قیام کے مقامات کی تحقیقات جاری ہیں۔

فلپائنی حکام کے مطابق دونوں افراد یکم نومبر 2025 کو فلپائن پہنچے اور 28 نومبر کو واپس روانہ ہوئے۔ آسٹریلوی میڈیا نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے عسکری تربیت کے لیے فلپائن جانے کا دعویٰ کیا، تاہم فلپائن کی فوج نے ایسی اطلاعات کی فوری تصدیق سے گریز کیا ہے۔

امیگریشن حکام کا کہنا ہے کہ دونوں نے جنوبی شہر ڈاواو کو اپنی آخری منزل بتایا تھا، جو جزیرہ منڈاناؤ میں واقع ہے، جہاں بعض علاقوں میں شدت پسند گروہوں کی موجودگی کی اطلاعات ماضی میں سامنے آتی رہی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے