نیویارک (ویب ڈیسک) ٹیسلا اور سپیس ایکس کے سی ای او ایلون مسک نے اپنے عقائد میں اہم تبدیلی کا انکشاف کیا ہے۔ حال ہی میں کیٹی ملر کے پوڈکاسٹ میں انٹرویو کے دوران، جب میزبان نے خدا کے وجود سے متعلق سوال کیا تو مسک نے کہا کہ وہ اب ایک تخلیق کار ہستی پر یقین رکھتے ہیں جس نے کائنات کو بنایا۔
ایلون مسک نے کہا: "مجھے یقین ہے کہ یہ کائنات کسی چیز سے وجود میں آئی۔ لوگ خدا کے لیے مختلف نام استعمال کرتے ہیں۔” انہوں نے مزید وضاحت کی کہ "God is the Creator” یعنی خدا تخلیق کار ہے، اور وہ اس ہستی کی طرف دیکھتے ہیں۔
یہ بیان مسک کی سابقہ پوزیشن سے واضح تبدیلی دکھاتا ہے۔ کئی سالوں تک خود کو ملحد قرار دینے والے مسک نے ماضی میں کہا تھا کہ وہ خدا پر یقین نہیں رکھتے، بلکہ خود کو "کلچرل کرسچن” کہتے ہیں یعنی وہ عیسائی تعلیمات کی قدر کرتے ہیں مگر مذہبی طور پر فعال نہیں۔ تاہم اب ان کا کہنا ہے کہ ان کی سوچ بدل چکی ہے اور وہ کائنات کی پیچیدگی دیکھ کر یقین کرتے ہیں کہ یہ سب خود بخود نہیں ہوا بلکہ کسی تخلیق کار کی مرضی سے وجود میں آیا۔
کیٹی ملر، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سینئر مشیر سٹیفن ملر کی اہلیہ ہیں اور سابقہ طور پر مسک کے ساتھ DOGE (ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی) میں کام کر چکی ہیں، نے 9 دسمبر 2025 کو یہ انٹرویو کیا۔ یہ ایپی سوڈ "Doge, AI, Mars, and the Future of Humanity” کے عنوان سے ریلیز ہوا اور اسے لاکھوں بار دیکھا جا چکا ہے۔
انٹرویو میں مسک نے دیگر موضوعات جیسے اے آئی خطرات، مریخ کی نوآبادیات، ٹائم ٹریول اور غیر ملکی زندگی پر بھی بات کی۔ ماہرین کے مطابق، مسک کی یہ روحانی تبدیلی ان کی سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کے تناظر میں اہم ہے، جہاں وہ حالیہ برسوں میں دائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں اور عیسائی اقدار کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔
یہ انکشاف سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے اور مختلف حلقوں میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ مسافرانِ فضا اور ٹیکنالوجی کے شائقین مسک کی اس نئی سوچ کو ان کی خلائی تحقیقات سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔