سڈنی: آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے علاقے بونڈی بیچ میں ہونے والے ہلاکت خیز فائرنگ کے واقعے پر پاکستان، عرب ممالک، ترکی، ایران اور افریقی یونین سمیت عالمی برادری نے شدید ردِعمل دیتے ہوئے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت اور آسٹریلیا سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے واقعے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خود دہشت گردی سے شدید متاثر رہا ہے اور ایسے حملوں سے معاشروں کو پہنچنے والے درد اور صدمے کو بخوبی سمجھتا ہے۔
وزیراعظم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں سڈنی میں ہونے والے المناک دہشت گرد حملے کے متاثرین سے تعزیت کی اور کہا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور اس مشکل گھڑی میں آسٹریلیا کے عوام اور حکومت کے ساتھ کھڑا ہے۔
قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن کی وزارتِ خارجہ نے بھی الگ الگ بیانات میں واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ہر قسم کے تشدد، دہشت گردی اور انتہاپسندی کو مسترد کیا اور آسٹریلیا سے یکجہتی کا اظہار کیا۔
افریقی یونین کمیشن کے چیئرمین محمود علی یوسف نے فائرنگ کے واقعے کو انسانیت، امن، رواداری اور بقائے باہمی کی مشترکہ اقدار پر حملہ قرار دیا اور کہا کہ دہشت گردی کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں، جبکہ کوئی بھی مقصد شہریوں کو نشانہ بنانے کا جواز نہیں بن سکتا۔
ترکیہ کی وزارتِ خارجہ نے بھی 14 دسمبر کو حنوکا کی تقریبات کے دوران ہونے والے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی خواہش کا اظہار کیا۔ ایران کی وزارتِ خارجہ نے بھی یہودی تقریب کو نشانہ بنانے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی اور انسانوں کا قتل دنیا کے کسی بھی حصے میں ناقابلِ قبول ہے۔
آسٹریلوی حکام کے مطابق بونڈی بیچ پر مسلح افراد کی فائرنگ سے کم از کم 16 افراد ہلاک اور 29 زخمی ہوئے، جن میں ایک حملہ آور بھی شامل ہے۔ آسٹریلوی پولیس نے واقعے کو دہشت گرد حملہ قرار دیا ہے جبکہ وزیراعظم انتھونی البانیزی کا کہنا ہے کہ یہودی آسٹریلوی شہریوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا۔