بھارتی پروپیگنڈا دھریندر کا جواب میرا لیاری
تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
آج کے ڈیجیٹل دور میں فلم اور میڈیا صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ سیاسی اور نفسیاتی جنگ کے ہتھیار بھی بن چکے ہیں۔ بالی ووڈ کی تازہ ترین ریلیز "دھریندر” اس کی ایک واضح مثال ہے، جو محض ایک جاسوسی تھرلر کی شکل میں پاکستان کے خلاف ایک منظم منفی پروپیگنڈا کی لہر کو آگے بڑھا رہی ہے۔ یہ فلم، جو 5 دسمبر 2025 کو ریلیز ہوئی، رنویر سنگھ کی اداکاری اور ادتیہ دھر کی ہدایات میں بنی ہے، پاکستان کو ایک جارحانہ، غیر ذمہ دار اور دہشت گردی کا گڑھ دکھاتی ہے۔ فلم کی کہانی میں پاکستان پر حملوں اور عسکری کارروائیوں کو جواز بخشا گیا ہے، جو نہ صرف جنگی ذہنیت کو فروغ دیتا ہے بلکہ خطے میں امن کی کوششوں کو بھی سبوتاژ کرتا ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں کہ فلم کی ریلیز کے فوراً بعد مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک میں اس پر پابندی لگا دی گئی، کیونکہ اسے "اینٹی پاکستان” مواد قرار دیا گیا ہے۔ بھارتی فلم انڈسٹری کی یہ روایت نئی نہیں ہے بلکہ ماضی میں بھی فلمیں جیسے "فینٹم” یا "یوری” پاکستان مخالف جذبات کو ہوا دیتی رہی ہیں، لیکن "دھریندر” اسے ایک نئی سطح پر لے جاتی ہے۔
فلم کی کہانی ایک بھارتی جاسوس کی ہے جو پاکستان میں دراندازی کرتا ہے اور وہاں کی سیکیورٹی فورسز اور معاشرے کو شیطانی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ خاص طور پر کراچی کے علاقے لیاری کو جرائم، دہشت گردی اور انتشار کا مرکز دکھایا گیا ہے، جو حقیقت سے بالکل متضاد ہے۔ یہ توڑ مروڑ کر پیش کیے گئے حقائق کا ایک سلسلہ ہے، جہاں پاکستان کے داخلی مسائل کو بڑھا چڑھا کر دکھایا جاتا ہے تاکہ بھارتی ناظرین میں نفرت اور خوف پیدا کیا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فلم بھارتی حکومت کے ریاستی بیانیے کا حصہ ہے، جو انتخابی سیاست اور قومیت پرستی کو فروغ دینے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ بالی ووڈ کو ایک مرتبہ پھر ریاستی آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جہاں فن اور تفریح کے نام پر دشمنی کا پیغام دیا جا رہا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھاتا ہے بلکہ عالمی اقدار جیسے امن اور باہمی احترام کے بھی خلاف ہے۔ اگر ہم دیکھیں تو بھارتی میڈیا اور فلم انڈسٹری کا یہ انداز جنوبی ایشیا کی جغرافیائی اور سیاسی حقیقت کو نظر انداز کرتا ہے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان امن کی ضرورت سب سے زیادہ ہے۔
یہ فلم محض ایک تفریحی پروڈکٹ نہیں بلکہ ایک مکمل آپریشن کی طرح کام کر رہی ہے، جو عوامی رائے کو متاثر کرنے اور پاکستان کے خلاف نفسیاتی جنگ کا حصہ ہے۔ فلم میں دکھائے گئے مناظر، جیسے پاکستانی اداروں کی کمزوریاں اور بھارتی جاسوسوں کی کامیابیاں، حقیقت میں بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش ہیں۔ مثال کے طور پر کلبھوشن یادیو کیس کو یاد کریں، جو ایک حقیقی بھارتی جاسوس تھا اور پاکستان نے اسے پکڑ کر عالمی سطح پر بھارتی مداخلت کو بے نقاب کیا تھا۔ لیکن "دھریندر” اسے الٹ کر دکھاتی ہے، جہاں بھارت کو ہیرو اور پاکستان کو ولن بنا دیا گیا ہے۔ یہ فن کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی ایک واضح مثال ہے، جو بھارتی جمہوری دعوؤں پر سوالیہ نشان لگاتی ہے۔ عالمی برادری کو اس قسم کے ثقافتی پروپیگنڈے کا نوٹس لینا چاہیے، کیونکہ یہ نہ صرف دو ممالک کے تعلقات کو متاثر کرتا ہے بلکہ مسلم اکثریتی ممالک کے خلاف بھارتی پالیسیوں کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں پابندی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ فلم اسلام اور پاکستان مخالف جذبات کو ہوا دے رہی ہے۔
اس منفی لہر کے جواب میں پاکستان نے ایک مثبت اور تعمیری راستہ اختیار کیا ہے۔ حکومتِ سندھ کی جانب سے "میرا لیاری” کی نمائش کا اعلان ایک بروقت اور دانشمندانہ اقدام ہے، جو پروپیگنڈے کا جواب نفرت سے نہیں بلکہ سچائی اور ثقافت سے دے رہا ہے۔ یہ فلم، جو اگلے ماہ ریلیز ہونے والی ہے، لیاری کو جرائم کے بجائے ثقافت، کھیل اور فن کا گہوارہ بنا کر پیش کرے گی۔ سندھ کے سینئر وزیرِ اطلاعات شرجیل انعام میمن نے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ "دھریندر” پاکستان مخالف پروپیگنڈا کی ایک اور مثال ہے اور "میرا لیاری” اس کا حقیقی جواب ہوگی، جو امن، ہم آہنگی اور مثبت قومی تشخص کو اجاگر کرے گی۔ یہ نمائش منفی پروپیگنڈے کے مقابلے میں پاکستان کی سافٹ امیج کو فروغ دینے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے، جو یہ دکھاتی ہے کہ لیاری ایک زندہ دل علاقہ ہے جہاں باکسنگ، فٹ بال اور موسیقی جیسی سرگرمیاں رونق بخشتی ہیں۔
حکومتِ سندھ کا یہ ردِعمل بالغ نظری کا ثبوت ہے، جہاں تصادم کے بجائے ثقافت اور امن کا راستہ اختیار کیا گیا ہے۔ یہ پاکستان کے مہذب تشخص کی عکاسی کرتا ہے، جو نفرت کا جواب امید سے دیتا ہے۔ نوجوانوں اور فنکاروں کو آگے لا کر قومی بیانیے کو مضبوط کیا جا رہا ہے، جو نہ صرف اندرونِ ملک بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت پیغام پہنچائے گا۔ جہاں "دھریندر” نفرت اور جارحیت کا پیغام دیتی ہے، وہیں "میرا لیاری” امن، ثقافت اور امید کی علامت ہے۔ یہ موازنہ ثابت کرتا ہے کہ منفی پروپیگنڈے کا بہترین جواب مثبت اور تعمیری بیانیہ ہی ہوتا ہے۔ حکومتِ سندھ کا یہ اقدام ایک مثال بن سکتا ہے کہ ثقافت کو کس طرح قومی دفاع اور تشخص کے لیے استعمال کیا جائے۔
تجزیاتی طور پر دیکھیں تو یہ واقعہ جنوبی ایشیا کی سیاست اور میڈیا کی پیچیدگیوں کو اجاگر کرتا ہے۔ بھارت میں، جہاں مودی حکومت قومیت پرستی کو فروغ دے رہی ہے، فلم جیسے میڈیم کا استعمال ووٹ بینک کو مستحکم کرنے کا ذریعہ ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں ایسے اقدامات سے داخلی اتحاد کو تقویت ملتی ہے اور عالمی سطح پر سافٹ پاور میں اضافہ ہوتا ہے۔ حقائق یہ ہیں کہ لیاری ایک تاریخی علاقہ ہے جہاں غربت اور مسائل کے باوجود لوگ بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں، اور فلمیں جیسے "دھریندر” ان کی جدوجہد کو مسخ کرتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر پاکستانی صارفین کی جانب سے اس فلم کی مذمت اور "میرا لیاری” کی حمایت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ عوام اب پروپیگنڈے کو پہچاننے لگے ہیں۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بھارتی فلم انڈسٹری نے ثقافت کو بھی جنگ کا ایک نیا محاذ بنا دیا ہے، جہاں فلموں کو ہتھیار اور اسکرین کو میدانِ جنگ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کا جواب محض دفاع تک محدود نہیں بلکہ ایک تخلیقی، مثبت اور باوقار بیانیہ ہے، جو ثابت کرتا ہے کہ سچائی، ثقافت اور انسانیت نفرت اور جھوٹ سے کہیں زیادہ طاقت رکھتی ہیں۔ اگر خطے کے ممالک پروپیگنڈا اور تعصب کے بجائے غربت، ماحولیات اور انسانی ترقی جیسے مشترکہ مسائل پر توجہ دیں تو جنوبی ایشیا حقیقی معنوں میں آگے بڑھ سکتا ہے۔ تاہم جب تک منفی تشہیر کا یہ سلسلہ جاری رہے گا، “میرا لیاری” جیسے اقدامات ناگزیر رہیں گے، جو دنیا کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ پاکستان نفرت کا جواب نفرت سے نہیں بلکہ امن، ثقافت اور امید سے دیتا ہے۔ یہی راستہ پائیدار امن کا ضامن ہے، اور پاکستان اور پاکستانی عوام کا یہی پیغام ہے۔
