بھارتی فلم "دیویندر” منفی بیانیے اور حقیقت کی تحریف کی مثال
تحریر:سیدریاض جاذب
بھارتی فلم "دیویندر” اگرچہ ایک عام فلم کے طور پر دیکھی جا سکتی ہے، مگر جب یہ حقیقت کا آئینہ دار بن کر پیش کی جائے تو اس پر تجزیہ کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ یہ فلم دراصل اُن بھارتی پروڈکشنز کا تسلسل ہے جو پاکستان، اس کے حالات اور سماجی کرداروں کو جان بوجھ کر منفی اور یک رُخی انداز میں دکھاتی رہی ہیں۔ بھارتی فلمی صنعت نے طویل عرصے سے پاکستان کو ایک غیر مستحکم اور جرائم زدہ معاشرہ دکھانے کی کوشش کی ہے، اور "دیویندر” بھی اسی سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔

ماضی میں بھارتی سینما نے لیاری، رحمان ڈکیت اور اسی نوعیت کے کرداروں کو حقیقی حقائق سے ہٹ کر پیش کیا۔ لیاری کو صرف اسلحے، گینگز اور خوف کی علامت کے طور پر دکھایا گیا، حالانکہ یہ علاقہ صرف جرائم کا مرکز نہیں بلکہ صلاحیت، جدوجہد اور کامیابی کی علامت بھی ہے۔ فٹ بال اور باکسنگ کے میدان میں لیاری نے پاکستان اور عالمی سطح پر اپنے کھلاڑیوں سے پہچان بنائی، مگر فلم میں اس مثبت اور تعمیری پہلو کو یکسر نظر انداز کیا گیا۔

اسی طرح، رحمان ڈکیت کو محض ایک بے رحم مجرم کے طور پر پیش کیا گیا، حالانکہ اس کردار کے پس منظر میں موجود سماجی ناانصافیاں اور ریاستی غفلت مکمل طور پر نظر انداز کر دی گئی ہیں۔ کسی بھی کردار کو اس کے سماجی یا تاریخی سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کرنا حقیقت کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔

"دیویندر” میں پاکستان کو ایسے دکھایا گیا جیسے پورا معاشرہ بدامنی اور انتشار کی لپیٹ میں ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ بھارت اس قسم کی فلموں کے ذریعے عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف منفی تاثر قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے، مگر یہ پروپیگنڈا حقیقت کی بنیاد پر کمزور ثابت ہوتا ہے۔

اسی تناظر میں خلیجی ممالک کی جانب سے "دیویندر” پر پابندی ایک بروقت اور دانشمندانہ اقدام ہے۔ گلف فائیو ممالک نے سمجھا کہ ایسی فلمیں نہ صرف حقیقت کو مسخ کرتی ہیں بلکہ معاشروں کے درمیان غلط فہمیاں اور منفی جذبات بھی جنم دیتی ہیں۔

آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ "دیویندر” جیسی فلمیں تاریخ یا سماج کی مستند دستاویز نہیں ہوتیں، بلکہ زیادہ تر ایک مخصوص سیاسی اور نظریاتی بیانیے کی نمائندہ ہوتی ہیں۔ ناظرین کو چاہیے کہ وہ فلم اور حقیقت کے فرق کو سمجھیں، کیونکہ سکرین پر دکھائی جانے والی ہر کہانی سچ نہیں ہوتی بلکہ بعض اوقات یہ محض منفی پروپیگنڈا بھی ہو سکتی ہے اور "دیویندر” اسی کی ایک واضح مثال ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے