میرپور ماتھیلو (نامہ نگارمشتاق علی لغاری) بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے مقامی دفتر میں سی انچارج اسحاق نائچ کے مبینہ من مانے رویّے، اختیارات کے غلط استعمال اور خواتین کے ساتھ بدسلوکی نے علاقے میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ متعدد مستحق خواتین اور مقامی شہریوں نے الزام لگایا ہے کہ اسحاق نائچ نے کئی بار نہ صرف درخواست گزاروں کی بات نظر انداز کی بلکہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کر کے واپس بھی بھیج دیا، جس کے باعث غریب گھرانوں کی مالی امداد تاخیر اور رکاوٹ کا شکار ہو رہی ہے۔
شہریوں کے مطابق بی آئی ایس پی کا دفتر، جو انتہائی مستحق خواتین کو سہولت دینے کے لیے قائم کیا گیا تھا، مقامی سطح پر بدانتظامی اور غیر ذمہ دارانہ رویّوں کے باعث مشکلات کا گڑھ بنتا جا رہا ہے۔ کئی خواتین نے شکایت کی ہے کہ وہ گھنٹوں لائنوں میں کھڑی رہتی ہیں، مگر بدسلوکی کے بعد انہیں بغیر کسی وجہ کے واپس بھیج دیا جاتا ہے۔
علاقے کے رہائشیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اسحاق نائچ کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’یہ پروگرام غریب خواتین کے لیے ہے، کسی افسر کی انا کی تسکین یا من مانی کے لیے نہیں‘‘۔ مقامی رہنماؤں نے حکومت سے فوری نوٹس لینے اور اس معاملے کی غیر جانبدارانہ انکوائری کرانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
بی آئی ایس پی میں ماضی میں بھی بدانتظامی اور کرپشن کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ مختلف ادوار میں ایسے افسران کے خلاف کارروایاں بھی کی گئی ہیں جو جعلی اندراجات، بدسلوکی یا مالی بے ضابطگیوں میں ملوث پائے گئے۔ میرپور ماتھیلو جیسے علاقوں میں جب یہ پروگرام متاثر ہوتا ہے تو ہزاروں مستحق خواتین براہِ راست نقصان اٹھاتی ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری ایکشن نہ لیا گیا تو بی آئی ایس پی جیسے حساس پروگرام پر عوام کا اعتماد مجروح ہوگا، اور مستحق خاندان شدید مشکلات کا شکار رہیں گے۔ علاقے کے لوگ حکومتِ سندھ اور وفاقی بی آئی ایس پی انتظامیہ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ فوری طور پر افسر کو معطل کرکے شفاف انکوائری شروع کی جائے تاکہ متاثرہ خواتین کو انصاف مل سکے۔
مزید صورتحال سامنے آنے کا انتظار ہے جبکہ عوام حکام کے ایکشن کے منتظر ہیں۔