عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ سیلاب اور دیگر مشکلات کے باوجود پاکستان کی معیشت مستحکم ہوئی ہے اور قرض پروگرام کے تحت زیادہ تر اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مالی کارکردگی بہتر رہی، پرائمری سرپلس 1.3 فیصد رہا جو مقررہ ہدف کے مطابق ہے۔ خوراک کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی بڑھی، تاہم آئی ایم ایف نے اسے عارضی دباؤ قرار دیا۔

پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر ایک سال میں 9.4 ارب ڈالر سے بڑھ کر 14.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ آئندہ برسوں میں مزید اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

آئی ایم ایف نے رواں مالی سال کے لیے معاشی ترقی کی شرح 3.2 فیصد تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا ہے، بیروزگاری کی شرح 8 فیصد سے کم ہو کر 7.5 فیصد تک آنے کی توقع ہے، جبکہ مالی سال 2026 تک ٹیکسوں کا حصہ معیشت میں 16.3 فیصد تک بڑھنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کو حال ہی میں آئی ایم ایف کی جانب سے قرض کی قسط کی مد میں ایک ارب 20 کروڑ ڈالر موصول ہوئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے