افغانستان (ویب ڈیسک) افغان صوبے پنجشیر میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ حملے میں طالبان کے چیف آف اسٹاف سمیت 17 ارکان ہلاک ہوئے ہیں۔

این آر ایف کے بیان کے مطابق یہ حملہ 7 دسمبر کو شام 6 بجے کیا گیا، جس میں پہلے سے نصب دھماکہ خیز مواد اور راکٹس استعمال کیے گئے۔ این آر ایف کا کہنا ہے کہ حملے میں طالبان کا مرکزی ٹھکانہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور اس کے نتیجے میں طالبان کے کئی اہم رہنما بھی مارے گئے۔

بیان میں مزید بتایا گیا کہ حملے میں 5 طالبان زخمی ہوئے جبکہ این آر ایف کے تمام افراد محفوظ رہے۔ این آر ایف نے دعویٰ کیا کہ یہ حملہ مقامی شہریوں کے تحفظ اور طالبان کی جانب سے علاقائی ہراسانی کے جواب میں کیا گیا۔

این آر ایف نے کہا کہ صوبے میں طالبان مقامی لوگوں کو مسلسل ڈراتے اور ہراساں کرتے تھے، جس کے پیش نظر اس حملے کو منصوبہ بندی کے ساتھ انجام دیا گیا۔

افغانستان کی طالبان حکومت نے ابھی تک اس حملے کی تصدیق یا تردید نہیں کی، اور حملے کی تفصیلات کے بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔

یہ واقعہ افغانستان کے شمالی علاقوں میں طالبان مخالف گروہوں اور طالبان کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک نیا اضافہ سمجھا جا رہا ہے، اور اس کے اثرات صوبہ پنجشیر اور آس پاس کے علاقوں میں سکیورٹی کی صورتحال پر پڑنے کا امکان ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے