لاہور (ویب ڈیسک) چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایک سیاسی جماعت “سیاسی دجال” کا کردار ادا کر رہی ہے اور اس کا مقصد عوام اور افواج کے درمیان دراڑ پیدا کرنا ہے۔
باغبان پورہ لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانا نہ ان کا اور نہ ہی ان کی پارٹی کا مطالبہ ہے، تاہم اگر کسی سیاسی جماعت نے دہشت گردوں کی سہولت کاری کی یا آپریشن میں رکاوٹ ڈالی تو گورنر راج ناگزیر ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں جنگی نوعیت کی صورتحال بنتی جا رہی ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ افغانستان سے متعلق پاکستان کے خدشات درست ثابت ہو رہے ہیں، دہشت گرد افغان سرزمین استعمال کرکے حملے کر رہے ہیں جو قومی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج اس چیلنج کا مقابلہ کر رہی ہے جبکہ کچھ سیاسی قوتیں اس وقت بھی اداروں پر حملوں میں مصروف ہیں، جس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ مئی کی جنگ میں بھارت کو پاکستان کے ہاتھوں شکست ہضم نہیں ہورہی اور وہ دوبارہ سازشیں کر رہا ہے، تاہم پاک فوج، فضائیہ اور بحریہ ملک کا ہر قیمت پر دفاع کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو اپنی سیاست حدود میں رہ کر کرنی چاہیے اور ریاستی اداروں کے خلاف بیانیہ ترک کرنا ہوگا۔
ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر مریم نواز سندھ سے الیکشن لڑتی ہیں تو پیپلز پارٹی انہیں خوش آمدید کہے گی، سندھ میں تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابی عمل میں حصہ لینا چاہیے۔