لاہور (ویب ڈیسک) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے جامعہ اشرفیہ لاہور کے دورے کے دوران کہا ہے کہ وسائل پر قابض مراعات یافتہ طبقہ اور افسر شاہی ملک کو نوآبادیاتی طرز پر چلا رہے ہیں، جبکہ دستوری طور پر پاکستان اسلامی ملک ہے، عملی طور پر یہاں انگریز کا نظام نافذ ہے۔ انہوں نے مدارس کے معلمین، علماء اور طلبا کو ہدایت کی کہ وہ اسلام کے جامع تصور کو عام کریں اور امت کو جوڑنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

انہوں نے مولانا فضل رحیم کی عیادت کی اور ان کی دینی و ملی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی اور جامعہ اشرفیہ کے درمیان دیرینہ تعلق ہے اور بانی جماعت اسلامی سید مودودی اکثر نمازیں اسی جامعہ میں ادا کرتے تھے۔

امیر جماعت اسلامی نے عالمی سطح پر اسلام مخالف مظالم اور مغرب کے مسلط سرمایہ دارانہ نظام کی تباہ کاریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اسلامی دنیا کو تقسیم کیا گیا، امت گروہوں میں بٹ چکی ہے اور فلسطین و کشمیر کے عوام پر ظلم جاری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مدارس کے طلبا وطالبات اسلام کا جامع نظام عام کریں تاکہ انسانیت کے مسائل حل ہوسکیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ اللہ اور بندے کے تعلق کے قیام سے کوئی خوف نہیں رہتا اور مسلمان اللہ کے نظام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرتا ہے۔ انہوں نے عہد کیا کہ جماعت اسلامی فرسودہ نظام کو بدلنے اور اسلامی نظام نافذ کرنے کی جدوجہد جاری رکھے گی۔

اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر عطاالرحمن، امیر پنجاب وسطی جاوید قصوری، امیر لاہور ضیائ الدین انصاری، ڈاکٹر نوید احمد زبیری اور دیگر بھی موجود تھے جبکہ مہتمم جامعہ مولانا ارشد عبید اور دیگر اساتذہ نے امیر جماعت اسلامی کو جامعہ کے مختلف شعبہ جات کا دورہ کروایا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے