اسلام آباد (ویب ڈیسک)بانی پی ٹی آئی عمران خان سے آج ہونے والی ملاقات کے موقع پر اڈیالہ جیل کے اطراف سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔ گورکھ پور سے داہگل ناکے تک تجارتی مراکز اور تعلیمی ادارے بند رکھے گئے جبکہ دو شفٹوں پر مشتمل خصوصی سیکیورٹی پلان جاری کر دیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق 20 تھانوں کے ایس ایچ اوز، 8 ڈی ایس پیز اور 2 ایس پیز خصوصی ڈیوٹی پر تعینات ہیں۔ اڈیالہ کے گردونواح میں 1200 سے زائد اہلکار و افسران سیکیورٹی فرائض انجام دے رہے ہیں، جبکہ 6 لیڈی انسپکٹرز سمیت 48 خواتین کمانڈوز بھی تعینات کی گئی ہیں۔

آر ایم پی فورس، پنجاب کانسٹبلری، ڈولفن اسکواڈ اور ایلیٹ فورس کو بھی سیکیورٹی ڈیوٹی پر مامور کیا گیا ہے، جبکہ پولیس کو اینٹی رائٹ سامان بھی فراہم کر دیا گیا ہے۔ اس خصوصی سیکیورٹی آپریشن کی براہِ راست نگرانی ایس پی صدر انعم شیر کر رہی ہیں۔

ایس ایس پی آپریشنز طارق ملک بھی اڈیالہ جیل پہنچے اور سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔

دوسری جانب پمز اسپتال کے پانچ رکنی ڈاکٹرز کی ٹیم بھی جیل پہنچ گئی ہے جو عمران خان کا مکمل طبی معائنہ کرے گی۔ ٹیم میں جنرل فزیشن ڈاکٹر علی عارف، جنرل سرجن ڈاکٹر طارق عبداللہ، ماہرِ پیتھالوجی ڈاکٹر سمن وقار، ماہر ڈرماٹولوجی ڈاکٹر مبشر، اور لیب ٹیکنیشن نعمان اقبال شامل ہیں۔

اڈیالہ جیل حکام کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے مکمل طبی معائنے کے لیے پمز اسپتال کو باضابطہ خط لکھا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے