اسلام آباد:بدعنوانی پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے پاکستان میں کرپشن پرسیپشن سروے رپورٹ جاری کر دی ہے جس کے مطابق ملک میں کرپشن کے بارے میں عوامی تاثر پہلے کے مقابلے میں بہتر ہوا ہے اور مجموعی طور پر شفافیت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 66 فیصد پاکستانیوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران انہیں سرکاری کاموں کے لیے رشوت نہیں دینی پڑی، جو حکومتی اداروں میں بہتر شفافیت کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
سروے میں شامل 60 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے معیشت کو مستحکم کیا اور پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا۔
دوسری جانب 57 فیصد شہریوں نے اعتراف کیا کہ ان کی قوتِ خرید میں کمی آئی ہے، جبکہ 43 فیصد افراد نے کہا کہ ان کی قوتِ خرید میں بہتری ہوئی ہے۔
یہ سروے 22 سے 29 ستمبر 2025 کے دوران ملک بھر سے 4 ہزار افراد کی رائے کی بنیاد پر تیار کیا گیا۔
واضح رہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا یہ سروے بدعنوانی کی حقیقی شرح نہیں بتاتا بلکہ اس سے عوام کے ذہنوں میں موجود کرپشن کے تاثر کی عکاسی ہوتی ہے۔