اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما اور سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ ’’مائنس ون نہیں تو پی ٹی آئی پوری مائنس‘‘، اب مزید برداشت نہیں کیا جائے گا اور سخت کارروائی ہوگی۔ جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کی مقبولیت ختم ہو چکی ہے اور یہ اقتدار و دولت کی جنگ میں مصروف ہیں، ملک سے انہیں کوئی محبت نہیں۔
فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ سیاست دانوں کا یہ سارا جھگڑا آپس کا ہے، اب ایک انچ بھی برداشت نہیں کیا جائے گا، ’’رگڑ دیں گے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے بعد بہت سے لوگ سرنڈر کر چکے ہیں، اور پیر سے ’’ترقی‘‘ شروع ہو جائے گی۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہنوں نے ایسے انکشافات کیے جن سے ان کی کمزوری ظاہر ہو گئی، اور انہیں ’’مائنس ون مان کر گھر جانا چاہیے‘‘۔
پروگرام میں شریک سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ سیاسی تقسیم انتہائی بڑھ چکی ہے اور اب نیشنل ڈائیلاگ کے بغیر کوئی راستہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں مسائل کا حل ہمیشہ بات چیت سے نکلتا ہے، اور بانی پی ٹی آئی سے سیاست دانوں کی ملاقاتیں بحال ہوں تو ڈائیلاگ دوبارہ شروع ہوسکتا ہے۔
مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ پاکستان میں ترقی سب کی خواہش ہے اور سیاست سے کسی کو مائنس کرنا عوام کا حق ہے۔ قبل از وقت کسی سیاست دان کو ہٹایا جائے تو عوام اسی کے ساتھ کھڑے ہوجاتے ہیں، جیسا کہ نواز شریف کے معاملے میں ہوا۔
یاد رہے کہ چند روز قبل ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا تھا کہ ’’ریاست پاکستان سے بڑھ کر کچھ نہیں، ایک شخص کی خواہشات اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ وہ کہتا ہے میں نہیں تو کچھ نہیں‘‘۔
اس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بھی واضح کیا تھا کہ پی ٹی آئی کو اب جیل ملاقات یا عوامی اجتماعات کی اجازت نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی مفاہمت کا موقع گنوا چکی ہے، ’’انتشاری سوچ‘‘ رکھنے والوں سے بات نہیں ہوگی، تاہم اگر بانی پی ٹی آئی کے بغیر بات کرنی ہے تو پارلیمنٹ میں کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ معذرت اور شرمندگی کا اظہار کیا جائے تو حکومت غور کر سکتی ہے۔