زبان، لباس اور ہماری گم شدہ شناخت

دیسی منڈا، انگلش لباس
تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
قارئین آج ہم اپنے آپ سے سوال کریں گے اور پوچھنے کی جسارت کریں گے آخر ہم کیا ہیں؟ دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے، زندہ قومیں ہمیشہ اپنے ماضی، اپنی تہذیب، اپنی زبان، اپنی ثقافت اور اپنے قومی تشخص پر فخر کرتی ہیں۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کی پہچان کہاں سے شروع ہوتی ہے اور انہیں مستقبل میں کس سمت جانا ہے۔ قومیں ترقی ضرور کرتی ہیں، جدید علوم بھی حاصل کرتی ہیں، جدید لباس بھی پہنتی ہیں اور دنیا کی زبانیں بھی سیکھتی ہیں، لیکن اپنی شناخت کو کبھی دوسروں کی نقالی کی بھینٹ نہیں چڑھاتیں۔ مگر ہمارے ہاں سب کچھ الٹ ہے۔ افسوس کہ ہمارے ہاں ترقی کا تصور کچھ اس طرح بدل گیا ہے کہ دیسی ذہن کے ساتھ انگلش لباس پہننا ہی شاید اعلیٰ تعلیم، قابلیت اور مہذب ہونے کی علامت سمجھ لیا گیا ہے، جو کہ ہمارے معاشرے میں ایک پہچان بن چکا ہے۔

سوال یہ ہے کہ ہم آخر ہیں کیا؟ ایک باشعور قوم یا مختلف سمتوں میں بھاگتا ہوا کوئی لشکر؟ ہماری ترجیحات کیا ہیں؟ ہمیں اپنی تاریخ پر فخر ہے یا ہم اپنی پہچان سے شرمندہ ہیں؟ ہم نے ترقی کے لیے جدید علوم حاصل کرنے ہیں یا صرف ظاہری رکھ رکھاؤ تبدیل کرنا ہے؟ ویسے تو یہ سوال ہمیں اپنے پارلیمان اور بیوروکریسی سے کرنا بنتا ہے۔ پاکستان ایک نظریے، ایک جدوجہد اور ایک تاریخی پس منظر کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا۔ اس سرزمین کے حصول کے لیے ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دیں، اپنی جائیدادیں چھوڑیں، گھر بار قربان کیے اور ایک الگ قومی شناخت کے خواب کو حقیقت بنایا۔ مگر آج ہماری نئی نسل کے سامنے ایک عجیب صورت حال ہے۔ ہم اپنے بزرگوں کی روایات کو پرانا تصور کرتے ہیں، اپنی زبان بولنے میں جھجک محسوس کرتے ہیں اور انگریزی بولنے والے کو اکثر زیادہ قابل اور ذہین سمجھ بیٹھते ہیں۔ کیا واقعی قابلیت کا تعلق زبان سے ہے یا علم، کردار اور شعور سے؟ یہ ایک سنجیدہ اور بڑا گہرا سوال ہے جس کا جواب آج تک نہیں ملا۔

دنیا کی بڑی قوموں پر نظر ڈالیں۔ چین، جاپان، جرمنی، فرانس اور ترکی سمیت کئی ممالک نے اپنی قومی زبانوں کو تعلیم، تحقیق، دفتری امور اور قومی زندگی میں اہم مقام دیا ہے۔ وہ انگریزی سمیت دوسری زبانیں بھی سیکھتے ہیں، لیکن اپنی زبان کو کمتر نہیں سمجھتے۔ ان کے ہاں جدیدیت اور قومی شناخت ایک دوسرے کی مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کی معاون ہیں۔ ہم بھی انگریزی سیکھیں، ضرور سیکھیں، کیونکہ یہ عالمی رابطے، سائنس، ٹیکنالوجی اور تجارت کی اہم زبان ہے، لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی قومی زبان اردو کو پس پشت ڈال دیں؟ جی ہاں ہم نے ایسا ہی کیا ہے آج ہم اپنی شناخت سے کوسوں دور دکھائی دیتے ہیں۔

پاکستان کی قومی زبان اردو ہے۔ یہ ہماری مشترکہ تہذیبی اور قومی شناخت کا اہم حصہ ہے۔ لیکن ہمارے سرکاری دفاتر، تعلیمی اداروں، عدالتی نظام، کاروباری معاملات اور روزمرہ دفتری کارروائیوں میں انگریزی کا ایسا غلبہ ہے کہ عام شہری اکثر اپنی ہی ریاست کے نظام کو سمجھنے سے قاصر رہتا ہے۔ سرکاری دستاویزات انگریزی میں تیار ہوتی ہیں، درخواستیں انگریزی میں لکھی جاتی ہیں اور اہم معاہدوں کی زبان بھی عام آدمی کی سمجھ سے باہر ہوتی ہے۔ کیا یہ ہماری بدقسمتی نہیں؟ یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی شہری کو انگریزی پڑھنی نہیں آتی تو کیا اسے اپنے حقوق سے محروم رہنا چاہیے؟ ہمارے معاشرے میں ایسے بے شمار لوگ موجود ہیں جو انگریزی نہیں پڑھ سکتے، مگر انہیں مختلف سرکاری اور نجی اداروں میں انگریزی زبان کے کاغذات پر دستخط کرنے پڑتے ہیں۔ کئی افراد بغیر پڑھے، سمجھے یا کسی دوسرے کی وضاحت پر بھروسا کرکے دستاویزات پر انگوٹھا لگا دیتے ہیں یا دستخط کر دیتے ہیں۔ انہیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ان کاغذات میں کیا لکھا ہے اور وہ کس بات کی قانونی ذمہ داری قبول کر رہے ہیں۔

یہ صورت حال محض زبان کا مسئلہ نہیں بلکہ شہری حقوق، قانونی آگاہی اور سماجی انصاف کا معاملہ ہے۔ کیا یہ قوم کے ساتھ مذاق نہیں کہ ایک شخص اپنی ہی ریاست کے کاغذات اپنی زبان میں نہ پڑھ سکے؟ کیا یہ ضروری نہیں کہ ہر شہری کو اس کی سمجھ میں آنے والی زبان میں دستاویزات، معاہدوں اور سرکاری احکامات کی وضاحت فراہم کی جائے؟ ریاست کا فرض ہے کہ شہری کو باخبر رکھے، نہ کہ زبان کی پیچیدگی کے ذریعے اسے بے اختیار بنائے۔

ہماری ترجیحات کا ایک اور المیہ بھی ہے۔ ہم لباس، گاڑی، موبائل فون، شادی بیاہ کی تقریبات اور ظاہری نمود و نمائش پر تو بے دریغ خرچ کرتے ہیں، لیکن بچوں کی معیاری تعلیم، کتابوں، تحقیق اور تربیت پر وہ توجہ نہیں دیتے جس کی ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں بعض اوقات انگریزی بولنے والا شخص زیادہ عزت حاصل کر لیتا ہے، خواہ اس کے پاس علم اور کردار کی کمی ہو، جبکہ اردو یا پنجابی بولنے والا ایک محنتی اور باصلاحیت شخص محض زبان کی بنیاد پر کم تر سمجھا جاتا ہے۔ یہ کیسی ذہنیت ہے کہ ہم اپنے بچوں کو انگریزی میڈیم میں پڑھانا اپنی سماجی حیثیت کا مسئلہ سمجھتے ہیں، مگر انہیں اپنی تاریخ، اپنے قومی ہیروز، اپنی تہذیب اور اپنے بزرگوں کی قربانیوں سے آگاہ کرنے میں دلچسپی نہیں لیتے؟

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ لباس کسی انسان کی قابلیت کا پیمانہ نہیں ہوتا۔ شلوار قمیص پہننے والا شخص بھی دنیا کا بہترین سائنس دان، ماہر تعلیم، صنعت کار یا دانشور بن سکتا ہے۔ اسی طرح کوٹ پینٹ پہننے والا شخص لازماً باشعور یا مہذب نہیں ہو جاتا۔ انسان کی اصل پہچان اس کا کردار، اس کا علم، اس کی سوچ، اس کی دیانت داری اور معاشرے کے لیے اس کی خدمات ہیں۔ مگر ہمارے ہاں سب کچھ الٹ ہے۔ اصل مسئلہ انگریزی لباس پہننے یا انگریزی بولنے کا نہیں، بلکہ اپنی تہذیب کو کمتر اور دوسروں کی تہذیب کو برتر سمجھنے کا ہے۔ ہمیں دنیا کے ساتھ چلنا چاہیے، لیکن اپنی جڑوں کو کاٹ کر نہیں۔ جدید ٹیکنالوجی اپنانا، عالمی زبانیں سیکھنا اور ترقی یافتہ ممالک سے استفادہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، مگر اپنی قومی زبان اور ثقافت کو فراموش کرنا ترقی نہیں، فکری کمزوری ہے اور بدقسمتی ہے۔

ہمیں اپنے تعلیمی نظام پر بھی نظرثانی کرنا ہوگی۔ بچوں کو اردو میں بنیادی تعلیم اور تصورات سمجھنے کے بہترین مواقع فراہم کیے جائیں، انگریزی کو ایک اہم اضافی زبان کے طور پر مؤثر انداز میں سکھایا جائے اور سائنس، ٹیکنالوجی، طب، قانون اور دیگر شعبوں کی معیاری اصطلاحات اردو میں بھی دستیاب بنائی جائیں۔ سرکاری اداروں میں اردو کو مؤثر طور پر رائج کیا جائے، اہم دستاویزات کے اردو تراجم فراہم کیے جائیں اور شہریوں کو کسی بھی قانونی یا مالی کاغذ پر دستخط کرنے سے پہلے اس کا مفہوم سمجھنے کا حق دیا جائے۔

یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو تاریخ سے جوڑیں۔ انہیں بتایا جائے کہ قومیں محض عمارتیں، سڑکیں اور بڑی بڑی گاڑیاں بنانے سے ترقی یافتہ نہیں ہوتیں، بلکہ علم، تحقیق، اخلاق، قانون کی پاسداری، انصاف اور اجتماعی شعور سے ترقی کرتی ہیں۔ جس معاشرے میں استاد کی عزت، مزدور کے حقوق، کسان کی محنت اور عام شہری کی آواز کی قدر ہو، وہی معاشرہ حقیقی معنوں میں ترقی کرتا ہے۔ مگر ہمارے معاشرے میں ایک استاد ایک کانسٹیبل کے برابر تصور نہیں کیا جاتا جو بحیثیت قوم ہمارا زوال ہے۔

آج ہمیں خود سے چند سوالات کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا ہم اپنی قومی زبان کو وہ مقام دے سکے جس کی وہ مستحق ہے؟ کیا ہم نے اپنی تاریخ کو نئی نسل تک منتقل کیا؟ کیا ہم نے تعلیم کو طبقاتی تقسیم سے نکالا؟ کیا ہم نے عام آدمی کو اس کے حقوق اور قانونی معاملات سمجھنے کے قابل بنایا؟ اور سب سے بڑھ کر کیا ہم نے ترقی کے نام پر اپنی شناخت کو محفوظ رکھا؟ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم ایک باشعور قوم بننا چاہتے ہیں یا صرف دوسروں کی نقالی کرنے والا ہجوم رہنا چاہتے ہیں۔ قومیں اپنی زبان، ثقافت اور تاریخ سے طاقت حاصل کرتی ہیں، جبکہ ہجوم صرف حالات کے ساتھ اپنا رخ بدلتا رہتا ہے۔ مگر ہم نقالی کے پروگرام پر عمل پیرا ہیں۔

میری نظر میں وقت کا تقاضا ہے کہ ہم دیسی ہونے پر شرمندہ ہونے کے بجائے اپنی شناخت پر فخر کرنا سیکھیں۔ انگریزی ضرور بولیں، جدید لباس بھی پہنیں، دنیا کے علوم بھی حاصل کریں، مگر اپنی زبان، اپنے بزرگوں، اپنی تہذیب اور اپنی تاریخ کو کبھی نہ بھولیں۔ یاد رکھیے! انگریزی بولنے سے انسان تعلیم یافتہ نظر آ سکتا ہے، لیکن حقیقی تعلیم انسان کی سوچ، کردار اور عمل سے ظاہر ہوتی ہے۔

آخر میں سوال صرف اتنا ہے کہ ہمیں دیسی منڈا بن کر انگلش لباس پہننے پر فخر کرنا ہے یا ایک ایسی باشعور پاکستانی قوم بننا ہے جو جدید بھی ہو، تعلیم یافتہ بھی ہو اور اپنی قومی شناخت پر فخر بھی کرتی ہو؟ قومیں اپنی پہچان کھو کر ترقی نہیں کرتیں، بلکہ اپنی پہچان کو محفوظ رکھتے ہوئے دنیا میں اپنا مقام بناتی ہیں۔

ملک ظفر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے