اشرافیہ کا جواب: کیک کھا لو

عوام کیک کھائیں
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
یہ مشہور واقعہ فرانس کے انقلاب (1789ء) سے پہلے کا بیان کیا جاتا ہے۔ تاریخی روایات کے مطابق، جب فرانس شدید معاشی بحران، قحط اور بھوک کا شکار تھا اور غریب عوام روٹی نہ ملنے کی وجہ سے سڑکوں پر نکل آئے تھے تو فرانس کی آخری ملکہ میری انتوانیٹ کے بارے میں یہ بات مشہور ہوئی کہ جب اسے بتایا گیا کہ عوام کے پاس کھانے کے لیے روٹی نہیں ہے تو اس نے بے پرواہی سے جواب دیا تھا کہ اگر روٹی نہیں ہے تو وہ کیک کیوں نہیں کھاتے۔

تاریخ چاہے اسے ایک علامتی قصہ یا پروپیگنڈا کہے لیکن یہ جملہ شاہی بے حسی اور اشرافیہ کے اس غرور کا سب سے بڑا استعارہ ہے جو ہمیشہ سے بھوکے عوام کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہیں ۔ آج بھی جب ہمارے حکمران محلات میں بیٹھ کر عوام کو صبر کا درس دیتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ تاریخ کے اسی پرانے فلسبے کو دہرا رہے ہوں کہ عوام کے پاس روٹی نہیں ہے تو کیک کھائیں۔

آج دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ایک ایسا ہی طوفان برپا ہے اور وہ یورپ جسے دنیا ترقی اور سکون کا گہوارہ سمجھتی تھی، آج سڑکوں پر مچل رہا ہے۔ فرانس، اٹلی، سپین، پرتگال، یونان، جرمنی اور بیلجیم جیسے دس سے زائد ممالک میں "جنریشن زی” یعنی نوجوان نسل کا غصہ لاوا بن کر پھٹ پڑا ہے اور لاکھوں نوجوان سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

ان کا مطالبہ کوئی سیاسی عہدہ یا اقتدار حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ روٹی، کپڑا، مکان، مہنگائی سے نجات اور ایک باعزت مستقبل کا حصول ہے۔ فرانس میں صرف ایک ہفتے کے اندر چار لاکھ سے زائد لوگ سڑکوں پر آ گئے، سکول بند ہو گئے، دکانوں میں آگ لگ گئی اور پولیس کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئیں۔ اٹلی میں طلباء اور مزدور ایک ساتھ مل کر حکومتی پالیسیوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں جبکہ سپین کا وہ دل دہلا دینے والا منظر پوری دنیا نے دیکھا جہاں ایک عمر رسیدہ بزرگ خاتون کو اس کے گھر سے زبردستی بے دخل کیا گیا،اس ایک واقعہ نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔

یہ کوئی معمولی احتجاج نہیں ہے بلکہ یہ اس نسل کی پکار ہے جو چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ ہماری زندگی، ہمارے خواب اور ہمارے مستقبل کی کیک پارٹی تم نے ہم سے چھین لی ہے اور اب ہم مزید خاموش نہیں بیٹھیں گے۔

دوسری طرف سات سمندر پار امریکہ کے عام عوام نے بھی بیلٹ باکس یعنی ووٹ کے ذریعے اپنا واضح فیصلہ سنا دیا ہے۔ مہنگائی، بڑھتے ہوئے اخراجات اور جنگی پالیسیوں سے تنگ آ کر وہاں کے ووٹرز نے موجودہ اور روایتی حکمرانوں کو آئینہ دکھا دیا ہے جہاں نو میں سے دس لوگوں نے اس بات کو بنیادی اہمیت دی کہ ان کے لیے روزمرہ کی زندگی گزارنا کتنا مشکل ہو چکا ہے اور اس طرح امریکہ کے بڑے بڑے سیاسی گڑھ دھڑام سے گر گئے۔

جمہوریت نے وہاں اپنا اثر دکھایا اور عوام کے غصے کو دبانے کے بجائے اسے ووٹ کی طاقت میں بدل کر حکمرانوں تک پہنچا دیا گیا۔

اب ذرا اپنے پیارے وطن پاکستان کی حالتِ زار پر نظر ڈالیے، کیونکہ یہاں کوئی ایسا آئینہ ہے ہی نہیں جو ہمیں ہماری تباہ حال حقیقت دکھا سکے۔ ہمارے ملک کے تقریباً بارہ کروڑ لوگ آج بھی روزانہ چار ڈالر سے کم پر گزارا کرنے پر مجبور ہیں۔ سرکاری کاغذی اعداد و شمار کے مطابق غربت کی شرح اڑتیس فیصد تک پہنچ چکی ہے، لیکن اگر آپ کسی غریب کے باورچی خانے میں جھانک کر دیکھیں تو مہنگائی کا بوجھ اس سے کہیں زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ پیٹرول کی قیمت، بجلی کے بل، آٹے کا تھیلا اور دودھ کا ایک ایک قطرہ عام آدمی کے گلے کی ہڈی بن چکا ہے۔

ہمارا نوجوان بے روزگار ہے، ڈگریاں ہاتھ میں لیے وہ سڑکوں پر دھکے کھا رہا ہے، تعلیم کا معیار روز بروز گر رہا ہے اور اس کا پورا مستقبل اندھیرے کے سپرد ہو چکا ہے۔

ہمارے حکمران آج بھی اسی غفلت کی نیند سو رہے ہیں اور اس وقت کا انتظار کر رہے ہیں جس کا سامنا یورپ اور امریکہ کے حکمران پہلے کر چکے ہیں یا کر رہے ہیں۔ وہ شاید یہ سوچ رہے ہیں کہ یہ عوام کا غصہ ہے، خود ہی ٹھنڈا ہو جائے گا، طوفان گزر جائے گا یا کوئی نیا بحران جنم لے گا اور لوگوں کی توجہ اس مسئلے سے ہٹ جائے گی۔

مگر وہ اس تلخ حقیقت سے آنکھیں چرائے بیٹھے ہیں کہ جب فرانس کا ایک طالب علم خستہ حال سکول کی وجہ سے سڑک پر نکلتا ہے تو وہ صرف عمارت نہیں مانگ رہا ہوتا بلکہ اپنے وجود اور اپنی عزت کا حق مانگ رہا ہوتا ہے۔ اسی طرح جب اٹلی کا نوجوان مہنگے پیٹرول کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو وہ صرف ایندھن نہیں مانگ رہا ہوتا بلکہ ایک باعزت زندگی کا حق مانگ رہا ہوتا ہے۔

پاکستان میں یہ دبا ہوا غصہ آخرکار کہاں جائے گا؟ ہمارے ہاں حالات اس قدر گھٹن زدہ ہیں کہ نہ تو ووٹ کی حرمت محفوظ ہے، نہ ہی اداروں پر عوام کا اعتماد باقی رہا ہے اور نہ ہی اختلافِ رائے کو برداشت کیا جاتا ہے۔ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ کبھی منتخب وزیراعظم کو پھانسی پر لٹکا دیا جاتا ہے، کبھی جلاوطنی اس کا مقدر ٹھہرتی ہے تو کبھی اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے۔

یہ سب کچھ دیکھ کر ایک عام اور غریب آدمی کے دل میں یہی پیغام جاتا ہے کہ تمہاری مصیبتیں، تمہاری غربت اور تمہاری تباہی ہی تمہاری قسمت ہے اور تمہارا درد سننے والا اس ملک میں کوئی نہیں ہے۔

ذرا سوچیے کہ اگر پاکستان میں واقعی کبھی آزادانہ اور شفاف انتخابات ہو جائیں، تو کیا ہو گا؟ عوام ان تمام لوگوں کو عبرت ناک سزا دیں گے جو ان کی اس بدحالی کے ذمہ دار ہیں اور وہ نوجوان جو آج مجبوری میں سوشل میڈیا پر اپنا گھٹن زدہ غصہ نکال رہے ہیں، کل جب پولنگ بوتھ کے سامنے کھڑے ہوں گے تو ان کا یہ غصہ بیلٹ باکس کی شکل میں پھٹے گا۔

مگر سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ہماری اشرافیہ اس سچائی کو کب تسلیم کرے گی اور وہ کب اس بات کو سمجھے گی کہ جمہوریت کا اصل اور آخری فیصلہ صرف اور صرف عوام کرتے ہیں، کوئی ادارہ یا کوئی مخصوص طبقہ نہیں۔

یورپ جل رہا ہے، امریکی عوام کا فیصلہ آ چکا ہے، لیکن پاکستان کا عام انسان یورپ اور امریکہ کے شہریوں سے کہیں زیادہ مشکل، کٹھن اور جان لیوا حالات سے گزر رہا ہے کیونکہ ہمارے لوگوں کے پاس نہ تو کوئی مضبوط معاشی سہارا ہے اور نہ ہی مغرب جیسی مضبوط جمہوری روایات۔

پھر بھی ہمارا غریب پاکستانی کمال کا صبر دکھا رہا ہے اور چپ چاپ سب سہہ رہا ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ خاموشی ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتی۔ جب عوام کا صبر کا پیمانہ ٹوٹتا ہے اور ان کی برداشت کی آخری حد آ جاتی ہے، تو وہ صرف حکومتیں نہیں بدلا کرتے بلکہ پورے کا پورا نظام ہی الٹ کر رکھ دیتے ہیں۔

ہمارے ملک کی اشرافیہ شاید اب بھی اسی غلط فہمی میں ہے کہ جب عوام سڑکوں پر آئیں گے تو وہ طاقت کے زور پر امن و عامہ کے نام پر سب کچھ دبا دیں گے، لیکن انہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یورپ کے نوجوان آج جو کچھ اپنی سڑکوں پر کر رہے ہیں، کل وہی کچھ پاکستان کا نوجوان بھی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جہاں فرق صرف اتنا ہے کہ ہمارے ہاں نہ تو بیلٹ باکس آزاد ہے اور نہ ہی سڑک پر نکلنا محفوظ ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی حکمران طبقہ روٹی مانگنے والوں کو "کیک” کے مشورے دیتا ہے تو محلوں کے سنگ مرمر کے فرش زیادہ دیر تک محفوظ نہیں رہتے۔ آج یورپ کی سڑکوں سے لے کر امریکہ کے بیلٹ باکس تک اور پاکستان کے بے بس باورچی خانوں سے لے کر زندان کی سلاخوں کے پیچھے تک، ہر سو ایک ہی سوال گونج رہا ہے کہ یہ بے حسی کب تک چلے گی؟

مغرب کے حکمرانوں نے تو وقت کی نبض کو پہچان لیا اور عوام کے غصے کو ووٹ کے ذریعے راستہ دے دیاہے لیکن ہماری اشرافیہ اب بھی اسی غفلت کی نیند سو رہی ہے کہ شاید بھوکے لوگ یونہی چپ چاپ دیکھتے رہیں گے۔

مگر یاد رکھیے! تاریخ کے اس تسلسل میں جب عوام کا صبر جواب دے جاتا ہے تو وہ صرف حکومتوں کے چہرے نہیں بدلا کرتے، بلکہ اشرافیہ کے ان محلات اور فرسوده نظام کی بنیادیں ہی اکھاڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ آج اگر حکمرانوں نے "کیک” کیوں نہیں کھاتے کی اس روش کو ترک نہ کیا تو کل تاریخ خود فیصلہ کرے گی اور جب عوام کا طوفان اٹھے گا تو پھر نہ کوئی تخت بچے گا اور نہ ہی کسی کیک کا ٹکڑا!

ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے