امریکی مڈٹرم انتخابات میں ٹرمپ کی جماعت کو بڑا دھچکا، ڈیموکریٹس دونوں ایوانوں پر قابض

واشنگٹن (کیو این این ورلڈ) امریکا کے وسط مدتی انتخابات 2026 میں ڈیموکریٹک پارٹی نے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں کا کنٹرول ریپبلکن پارٹی سے چھین لیا ہے۔ انتخابی نتائج کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں، خصوصاً اسرائیل کی غیر مشروط حمایت، ایران کے خلاف جنگ اور غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے تناظر میں اہم سیاسی ردعمل قرار دیا جا رہا ہے۔ نیتن یاہو کی پالیسیوں کا ساتھ دینے اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی مداخلت کے فیصلوں نے ٹرمپ انتظامیہ کو امریکی عوام کے ایک بڑے طبقے کی تنقید کا سامنا کرنے پر مجبور کیا، جس کے اثرات انتخابی نتائج میں بھی دکھائی دیے۔

3 نومبر 2026 کو ہونے والے انتخابات میں ڈیموکریٹس نے متعدد اہم ریاستوں میں ریپبلکن امیدواروں کو شکست دی۔ ٹیکساس جیسی روایتی ریپبلکن ریاست میں سینیٹ کی نشست جیتنا ڈیموکریٹس کی اہم کامیابیوں میں شامل ہے۔ انتخابی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس نے سینیٹ میں 51 نشستوں کے ساتھ اکثریت حاصل کرلی، جبکہ 100 رکنی ایوان میں ریپبلکنز 40 نشستوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے۔ سینیٹ میں سادہ اکثریت کے لیے 51 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔

ایوانِ نمائندگان کے 435 ارکان کے انتخاب کے لیے ہونے والی ووٹنگ میں بھی ڈیموکریٹس نے نمایاں برتری حاصل کی۔ ابتدائی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس 178 نشستیں جیت چکے تھے جبکہ ریپبلکنز کو 107 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی۔ ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے 218 نشستیں درکار ہیں۔ متعدد اہم حلقوں میں ڈیموکریٹ امیدواروں کی کامیابی کے بعد پارٹی کو ایوان میں اکثریت حاصل ہونے کی توقع ظاہر کی گئی۔ حکیم جیفریز کے اسپیکر بننے کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، تاہم حتمی نشستوں اور اسپیکر کے انتخاب کا فیصلہ بعد میں ہوگا۔

ٹیکساس میں ڈیموکریٹ امیدوار جیمز ٹالاریکو نے ریپبلکن امیدوار کین پیکسٹن کو شکست دے کر سینیٹ کی نشست جیت لی۔ یہ کامیابی اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ ٹیکساس طویل عرصے سے ریپبلکن پارٹی کا مضبوط سیاسی مرکز رہا ہے۔ اسی طرح شمالی کیرولائنا میں سابق گورنر رائے کوپر نے ریپبلکن امیدوار کو شکست دے کر سینیٹ کی نشست اپنے نام کی۔ جنوبی کیرولائنا، اوہائیو، کنساس اور آئیووا میں بھی ڈیموکریٹس نے اہم کامیابیاں حاصل کیں، جبکہ جارجیا سے جان اوسوف اپنی سینیٹ کی نشست برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔

مختلف ریاستوں میں کانگریس کی نشستوں پر بھی ڈیموکریٹ امیدواروں نے کامیابی حاصل کی۔ فلوریڈا کے ڈسٹرکٹ 12 سے ڈیموکریٹ امیدوار ڈیبی واسرمین شلٹز مسلسل بارہویں مرتبہ کانگریس کی رکن منتخب ہوئیں، جبکہ جارجیا کے مختلف حلقوں میں نکیما ولیمز، جیسمین کلارک، لوسی میکبتھ اور ہینک جانسن نے کامیابی حاصل کی۔ اوہائیو اور دیگر ریاستوں میں بھی ڈیموکریٹس نے متعدد نشستیں جیتیں۔ مشی گن میں مسلم امیدوار عبدالاسلام السید کی سینیٹ کے انتخاب میں شرکت بھی خصوصی توجہ کا مرکز رہی، جبکہ فلسطینی نژاد امریکی رکنِ کانگریس رشیدہ طلیب نے بھی دوبارہ انتخابی مقابلے میں حصہ لیا۔

گورنر کے انتخابات میں بھی ڈیموکریٹس نے اہم کامیابیاں حاصل کیں۔ ٹیکساس میں جینا ہینوجوسا نے کامیابی حاصل کرکے ریاست کی پہلی لاطینی نژاد خاتون گورنر بننے کا اعزاز حاصل کیا، جبکہ جارجیا میں کیشا لانس باٹمز پہلی سیاہ فام خاتون گورنر منتخب ہوئیں۔ میری لینڈ، پنسلوانیا، میساچوسٹس، الینوائے اور دیگر ریاستوں میں بھی ڈیموکریٹ امیدواروں نے کامیابی حاصل کی، تاہم فلوریڈا میں ریپبلکن امیدوار بائرن ڈونلڈز گورنر منتخب ہوئے۔

انتخابی نتائج کے حوالے سے سیاسی تجزیوں میں ایران کے ساتھ جنگ، اسرائیل کی حمایت اور غزہ کی صورتحال کو بھی اہم انتخابی عوامل قرار دیا جا رہا ہے۔ نیتن یاہو کی حکومت کے ساتھ ٹرمپ انتظامیہ کے قریبی تعلقات اور ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے فیصلے کو امریکی سیاست میں شدید بحث کا موضوع بنایا گیا تھا۔ ایران کے خلاف جنگ میں امریکی شمولیت پر ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے، جہاں شہریوں نے جنگی کارروائیوں، فوجی اخراجات اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کیا۔

غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں کے معاملے پر بھی ٹرمپ انتظامیہ کو تنقید کا سامنا رہا۔ امریکی عوام کے مختلف حلقوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور جنگ مخالف کارکنوں نے اسرائیلی کارروائیوں پر امریکی حمایت ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب ایران جنگ نے امریکی معیشت، توانائی کی قیمتوں اور خطے میں مزید فوجی کشیدگی کے خدشات کو بھی انتخابی بحث کا حصہ بنایا۔ سیاسی مبصرین کے نزدیک ان معاملات نے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے داخلی سیاسی مشکلات میں اضافہ کیا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ نتائج کو تسلیم کریں گے اور ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کی کوشش کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے دونوں جماعتیں بعض معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کرلیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ خود انتخابی بیلٹ پر موجود نہیں تھے، ورنہ ان کے خیال میں ریپبلکنز بڑی کامیابی حاصل کرتے۔

امریکی وسط مدتی انتخابات کی ایک منفرد بات یہ بھی رہی کہ خلا میں موجود تین امریکی خلابازوں نے خلائی اسٹیشن سے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ ناسا کے خلابازوں نے الیکٹرانک طریقے سے اپنے ووٹ ہیوسٹن خلائی مرکز کو ارسال کیے۔ خلابازوں کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے خلا میں رہتے ہوئے بھی جمہوری عمل میں حصہ لیا جا سکتا ہے۔

ڈیموکریٹس کی جانب سے سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد صدر ٹرمپ کی باقی صدارتی مدت کے دوران امریکی سیاست میں اہم تبدیلیاں متوقع ہیں۔ کانگریس میں اکثریت کے باعث ڈیموکریٹس حکومتی قانون سازی، بجٹ اور اہم پالیسی فیصلوں پر اثرانداز ہو سکیں گے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کی نگرانی اور مختلف معاملات کی تحقیقات کے لیے بھی انہیں زیادہ اختیارات حاصل ہوں گے۔

یہ نتائج 2028 کے صدارتی انتخابات کے لیے بھی اہم سیاسی پس منظر فراہم کرتے ہیں۔ ڈیموکریٹس کو کانگریس میں کامیابی سے اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کرنے کا موقع ملا ہے، جبکہ ریپبلکن پارٹی کو اب اپنی انتخابی حکمت عملی اور حکومتی پالیسیوں پر نظرثانی کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے