انصاف کا دوہرا معیار؟ کہیں پولیس مقابلے، کہیں نو سالہ انتظار، کہیں مظلوم کی خودسوزی!

مبینہ پولیس مقابلے، فوری انصاف؟ زویا کا قاتل ایک ماہ میں آزاد، باپ نے خود کو آگ لگا لی
تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
آج حسبِ معمول نیوز روم کے کام میں مصروف تھا کہ سب سے پہلے گوجرانوالہ کی دلہن صبا کے قتل کے ملزمان کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کی خبر سامنے آئی۔ ابھی اس خبر پر نظر ٹھہری ہی تھی کہ گزشتہ ہفتے کے دو واقعات بھی ذہن میں تازہ ہوگئے۔ ایک اسلام آباد میں طالبہ کے مقدمے کا مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوا اور اسی روز ملتان میں یتیم بچے کو گاڑی سے کچلنے والا شخص بھی مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔

یہ تینوں خبریں اپنے اندر کئی سوالات سموئے ہوئے ہیں۔ اگر پولیس ملزمان تک پہنچ سکتی ہے، انہیں گرفتار کرسکتی ہے اور پھر ان کے خلاف کارروائی بھی کرسکتی ہے تو معاشرے میں ایسے بے شمار مظلوم خاندان کیوں ہیں جو برسوں انصاف کے لیے دربدر بھٹکتے رہتے ہیں؟

ابھی انہی خبروں پر غور کررہا تھا کہ ضلع مظفرگڑھ سے دو مزید خبریں سامنے آگئیں۔ پہلی خبر شاہ جمال میں 25 سالہ زویا کے قتل کی تھی، جسے فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔ زویا کے شوہر صابر کھوکھر کے مطابق واقعہ ایک زمیندار کے ڈیرے پر پیش آیا اور اس کے پیچھے زویا کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کا معاملہ تھا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ پولیس نے ان کی مدعیت میں مقدمہ درج کرنے کے بجائے اپنی مدعیت میں کارروائی کی، تفتیش درست انداز میں نہیں کی گئی اور نامزد ملزم کو ایک ماہ کے اندر رہا کردیا گیا۔ خاندان کے مطابق رہائی کے بعد ملزم کا پھولوں کی پتیاں نچھاور کرکے استقبال کیا گیا اور درجنوں گاڑیوں کے جلوس میں اسے لے جایا گیا۔

ایک طرف گوجرانوالہ کی دلہن صبا کے قتل کے ملزمان کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کی خبر ہے، دوسری طرف مظفرگڑھ کی زویا کے اہل خانہ ایک ماہ کے اندر ملزم کی رہائی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ آخر دونوں خاندانوں کے دکھ اور انصاف کے حق میں فرق کیوں ہے؟ کیا ایک مقتولہ کے خاندان کو فوری کارروائی اور دوسرے کو انصاف کے لیے دربدر ہونے پر مجبور ہونا چاہیے؟

مظفرگڑھ ہی سے دوسری خبر ایک ایسے باپ کی تھی جس کی بیٹی نو سال قبل زیادتی کا شکار ہوئی تھی۔ نو سال تک عدالتوں کے چکر لگانے، پیشیاں بھگتنے اور انصاف کی امید میں زندگی گزارنے کے بعد عدالت نے شواہد کی کمی کے باعث ملزم کو بری کردیا۔ فیصلے کے بعد دلبرداشتہ باپ اللہ بخشایا نے ضلعی عدالتوں کے باہر خود کو آگ لگا لی۔ ریسکیو اہلکار اسے تشویش ناک حالت میں ڈی ایچ کیو ہسپتال لے گئے، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق اس کا جسم تقریباً 45.5 فیصد جھلس چکا تھا۔ متاثرہ باپ کا کہنا تھا کہ اس مقدمے نے اس کی بیٹی کی زندگی بھی متاثر کی اور شوہر نے اسے طلاق دے دی۔

سوچیے! ایک باپ نو سال تک اپنی بیٹی کے لیے انصاف مانگتا رہا، مگر فیصلہ اس کے حق میں نہ آیا۔ عدالت نے شواہد کی کمی کی بنیاد پر ملزم کو بری کیا، لیکن اس فیصلے کے بعد ایک باپ کا اپنی جان لینے کی کوشش کرنا ہمارے نظامِ تفتیش، استغاثہ اور انصاف کے پورے عمل پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ اگر مقدمات میں شواہد اکٹھے کرنے، انہیں محفوظ رکھنے اور عدالت میں مؤثر انداز میں پیش کرنے کا نظام مضبوط نہ ہو تو متاثرہ خاندان آخر کس سے انصاف کی امید رکھیں؟

اسی دوران ملتان سے ایک اور افسوس ناک خبر سامنے آئی۔ شمیم مائی نے 10 جولائی کو ایک بااثر شخص کے خلاف زیادتی کی شکایت کی، میڈیکل معائنہ بھی ہوا، مگر پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا۔ بعد ازاں اس خاتون نے زہریلی گولیاں کھا کر زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ واقعے کے بعد آر پی او ملتان عثمان اکرم گوندل نے ڈی ایس پی نیو ملتان کو معطل کرنے اور متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی۔ تھانہ بدلہ سنت کے ایس ایچ او، سب انسپکٹر اور محرر کے خلاف بھی غفلت کے معاملے پر کارروائی کے احکامات دیے گئے۔

یہاں سوال صرف ایک خاتون کی موت کا نہیں ہے بلکہ اس نظام کا ہے جہاں ایک فریادی خاتون شکایت لے کر پولیس کے پاس جاتی ہے، اس کا طبی معائنہ بھی ہوتا ہے، لیکن اسے مقدمے کے اندراج کے لیے بھی انصاف نہیں ملتا۔ اگر بروقت قانونی کارروائی ہوتی، شکایت کو سنجیدگی سے لیا جاتا اور ذمہ دار اہلکار اپنی ذمہ داری پوری کرتے تو شاید یہ افسوس ناک انجام نہ ہوتا۔

ایک طرف اسلام آباد کی طالبہ کے مقدمے کا مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوتا ہے، دوسری طرف گوجرانوالہ کی دلہن صبا کے قتل کے ملزمان کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کی خبر نشر ہوتی ہے، جبکہ ملتان میں یتیم بچے کو گاڑی سے کچلنے والا شخص بھی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوجاتا ہے۔ ان واقعات کے ساتھ مظفرگڑھ کی زویا کے اہل خانہ کی شکایات، نو سال بعد زیادتی کے مقدمے میں ملزم کی بریت اور باپ کی خودسوزی کی کوشش اور ملتان کی شمیم مائی کی موت ہمارے سامنے ایک ایسا منظر پیش کرتی ہے جس میں انصاف کے نظام پر کئی بنیادی سوالات اٹھتے ہیں۔

یہاں ایک بات واضح رہنی چاہیے کہ کسی ملزم کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کو عدالتی انصاف کا متبادل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ قانون کی حکمرانی کا تقاضا ہے کہ ہر مقدمے کی شفاف تفتیش ہو، شواہد کی بنیاد پر کارروائی کی جائے، متاثرہ خاندان کو تحفظ اور انصاف ملے اور کسی بھی شخص کو قانون سے بالاتر نہ سمجھا جائے۔ پولیس مقابلے کی حقیقت اور قانونی حیثیت کا تعین بھی شفاف تحقیقات کے ذریعے ہونا چاہیے۔

اصل سوال یہ ہے کہ انصاف کا معیار ہر شہری کے لیے یکساں کیوں نہیں؟ کہیں ملزمان کی ہلاکت کی خبریں چند دنوں میں سامنے آجاتی ہیں، کہیں ایک ماہ میں ملزم رہا ہوجاتا ہے، کہیں نو سال بعد مقدمہ شواہد کی کمی کے باعث ختم ہوجاتا ہے اور کہیں ایک مظلوم خاتون شکایت لے کر تھانے پہنچنے کے باوجود زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے۔

کیا ریاست کی ذمہ داری صرف ملزمان تک پہنچنا ہے یا مظلوموں کو انصاف فراہم کرنا بھی اس کی بنیادی ذمہ داری ہے؟ کیا کسی غریب، بے سہارا اور کمزور خاندان کو انصاف کے لیے اپنی زندگی، عزت اور سکون قربان کرنا ہوگا؟ کیا انصاف صرف ان لوگوں کے لیے ہے جن کے مقدمات خبروں کی زینت بنتے ہیں، یا ہر اس شہری کا حق ہے جو ظلم کا شکار ہو؟

یہ واقعات محض چند الگ الگ خبریں نہیں، بلکہ ہمارے نظامِ انصاف کے سامنے ایک بڑا سوال ہیں۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ انصاف کا پیمانہ شہرت، اثرورسوخ، طاقت اور حالات کے مطابق نہیں بلکہ قانون اور شواہد کے مطابق ہونا چاہئے۔ ورنہ مظلوم خاندان کبھی تھانوں کے چکر لگاتے رہیں گے، کبھی عدالتوں میں نسلیں گنواتے رہیں گے اور کبھی انصاف کی امید میں اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھوتے رہیں گے۔

سوال یہ کہ ریاست اگر ملزمان تک پہنچ سکتی ہے تو مظلوموں تک انصاف کیوں نہیں پہنچا سکتی؟

ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے