خواتین پر پابندیاں اسلامی اقدار کے منافی ہیں، تعلقات معمول پر نہ لائے جائیں: رچرڈ بینیٹ

نیویارک(کیو این این ورلڈ) پاکستان نے افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی مسلسل موجودگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ افغان طالبان حکومت اپنی سرزمین پر ان گروہوں کو سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دے رہی ہے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں افغانستان سے متعلق انٹرایکٹو ڈائیلاگ کے دوران پاکستان کے نمائندے محمد جواد اجمل نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران افغانستان سے ہونے والے دہشت گرد حملوں میں 4,700 سے زائد پاکستانی شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

محمد جواد اجمل نے طالبان پر الزام عائد کیا کہ وہ دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ قریبی روابط برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ یہ گروہ بیرونی عناصر کی پشت پناہی سے افغان سرزمین پر آزادانہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جن کا مقصد پاکستان اور دیگر پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کی جانب سے ان تنظیموں کی کھلے عام مذمت نہ کرنا ان کی سرگرمیوں میں معاونت اور مبینہ ملی بھگت کی عکاسی کرتا ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ نے جنرل اسمبلی کو بتایا کہ اقتدار سنبھالنے کے پانچ سال بعد بھی طالبان نے انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کے خاتمے کے لیے کوئی عزم ظاہر نہیں کیا۔ بنیادی انسانی آزادیوں خصوصاً خواتین اور لڑکیوں سے متعلق پابندیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

رچرڈ بینیٹ نے رکن ممالک پر زور دیا کہ جب تک طالبان حکومت اپنی پابندیوں پر مبنی پالیسیوں کو واپس نہیں لیتی، اس وقت تک اس کے ساتھ تعلقات کو معمول پر نہ لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کے حالیہ احکامات نے خواتین کے حقوق کو مزید کمزور کر دیا ہے، ان کے خلاف تشدد کو فروغ دینے کے حالات پیدا کیے ہیں اور کم عمری کی شادیوں کو قبول کرنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

پاکستان کے نمائندے نے کہا کہ افغانستان میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال طالبان کی جانب سے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو نظرانداز کرنے کی عکاسی کرتی ہے۔ خواتین اور لڑکیوں پر عائد پابندیاں انہیں بنیادی آزادیوں اور انسانی وقار سے محروم کر رہی ہیں جو اسلامی تعلیمات اور اقدار کے منافی ہیں۔

انہوں نے جولائی میں اسلام آباد میں منعقدہ خواتین سے متعلق نویں وزارتی کانفرنس کا بھی ذکر کیا جس میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے اسلام آباد اعلامیہ منظور کیا تھا۔ اعلامیے میں افغان طالبان کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں پر عائد پابندیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں اسلامی اقدار سے متصادم قرار دیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے