گاؤں کے کردار، سماجی زندگی، کھیل اور علمی شناخت

بولیانوال: مختصر تاریخ، مرحوم شخصیات اور بیتے زمانوں کی یادیں
تحریر: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
قسط سوم: گاؤں کے کردار، سماجی زندگی، کھیل اور علمی شناخت

بولیانوال کی روزمرہ زندگی میں کچھ کردار ایسے تھے جنہیں کسی بڑے منصب یا شہرت کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ اپنے معمول کے کاموں اور مخصوص عادتوں سے لوگوں کے حافظے میں جگہ بنا گئے۔

ولی احمد چوکیدار یونین کونسل کے دفتر اور گولڑہ جا کر نومولود بچوں کی پیدائش اور ناموں کے اندراج کے کام سے وابستہ تھے۔ یہ بظاہر سادہ ذمہ داری تھی، مگر دیہی زندگی میں سرکاری اندراج اور لوگوں کے کام آنا ایک اہم خدمت تھی۔

بختاور حجام، غلام رسول کی گوشت کی دکان اور غلام رسول کے بھائی مہر خان کی شخصیت بھی گاؤں کے مانوس مناظر میں شامل تھی۔ مہر خان کا کندھے پر بارہ بور بندوق رکھے گاؤں میں گھومنا ان کی پہچان بن گیا تھا۔

پھل پرویز اپنی وجاہت اور جوانی کے باعث نمایاں تھا، جب کہ پیر کوٹ کے بابا شہزادہ کو بہادری کے حوالے سے یاد کیا جاتا تھا۔ بہادر بابا اڈے والے اور خان دوران کی آوازیں گونجتی تھیں۔ حیوانات کے ڈاکٹر محمود خان کا بھی ایک کردار تھا۔

یہ کردار بظاہر عام زندگی سے تعلق رکھتے تھے، لیکن کسی بھی گاؤں کی اصل تصویر انہی لوگوں سے بنتی ہے۔ ان کے بغیر گلیاں، دکانیں، راستے اور محفلیں ادھوری محسوس ہوتی ہیں۔ وقت گزرنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ روزمرہ زندگی کے یہی معمولی دکھائی دینے والے مناظر دراصل ہماری سب سے قیمتی یادوں میں بدل جاتے ہیں۔

کراچی میں مقیم بزرگ بینکار بابا کریم حیدر مرحوم کا ذکر بھی بولیانوال کی یادوں میں ایک محبت بھرا باب ہے۔ وہ چھٹیاں گزارنے گاؤں آتے تو گویا خوشیاں بھی ساتھ لاتے تھے۔ گاؤں کے چھوٹے بڑے ان کی آمد کے منتظر رہتے، کیونکہ ان کی موجودگی میل ملاقات اور اپنائیت کا موقع بن جاتی تھی۔ وہ بہترین شکاری، طنز و مزاح کے دلدادہ، صاحبِ علم اور محفلیں سجانے کے ماہر تھے۔

شہر میں رہتے ہوئے بھی انہوں نے اپنے گاؤں سے تعلق زندہ رکھا۔ ان کی آمد سے گاؤں کی فضا میں رونق پیدا ہوتی اور لوگ ان کے ساتھ وقت گزارنے کو اہمیت دیتے تھے۔

ایسے لوگ فاصلے پر رہ کر بھی اپنی بستی سے رشتہ کمزور نہیں ہونے دیتے۔ ان کی یاد اس بات کا ثبوت بن جاتی ہے کہ تعلق کا اصل پیمانہ قربت نہیں، بلکہ دل میں موجود جگہ ہے۔ روزگار انسان کو کہیں بھی لے جائے، اپنے لوگوں کی طرف لوٹنے کی خواہش دل میں باقی رہتی ہے۔

حاجی مسکین مرحوم کی آٹا چکی کی آواز صبح سویرے گونجتی تھی اور گاؤں کی معاشی اور روزمرہ زندگی کا اہم حصہ تھی۔ چکی پر لوگ اناج پسوانے کے ساتھ ایک دوسرے سے ملتے، حال احوال پوچھتے اور گاؤں کی خبریں بانٹتے تھے۔ یہ جگہ محض اناج پسوانے کا مرکز نہیں تھی، بلکہ لوگوں کے ملاپ اور گپ شپ کا ذریعہ تھی۔

ملا بابا کی رکھ کے درخت اور نالۂ جبر بھی بولیانوال کے قدرتی منظرنامے کے نمایاں حصے تھے۔ دیہات کی خوب صورتی صرف کھیتوں اور عمارتوں میں نہیں ہوتی، بلکہ ان راستوں، درختوں، پانی کے بہاؤ اور مانوس جگہوں میں ہوتی ہے جنہیں انسان بچپن سے دیکھتا آیا ہو۔ وقت گزرنے کے بعد یہی مقامات جغرافیے سے آگے بڑھ کر دل کے نقشے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ جب انسان ماضی کی طرف لوٹتا ہے تو بعض اوقات کسی شخص سے پہلے کوئی راستہ، درخت، نالہ یا پرانی عمارت یاد آتی ہے، کیونکہ ان جگہوں میں زندگی کے کئی موسم اور کئی نسلوں کی یادیں بسی ہوتی ہیں۔

گاؤں کی بیٹھکوں اور میل جول کی محفلوں میں چاچا کرامت کا اپنا ہی رنگ تھا۔ سفید بالوں میں سرخی مائل مہندی اور دور سے پہچان میں آ جانے والی صورت ان کی خاص پہچان تھی۔ ان کی گفتگو میں اپنائیت تھی، اسی لیے ان کا ذکر بھی مانوسیت کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

بابا یونس درزی، چاچا اقبال، اسحاق مغل اور بابا فرید موچی بھی اسی روزمرہ معاشرت کے جانے پہچانے کردار تھے۔ کسی کے پاس ہنر تھا، کسی کے پاس قصہ اور کسی کے پاس دوسروں کی بات سننے کا وقت۔ یہی لوگ بستی کو محض گھروں کا مجموعہ نہیں رہنے دیتے تھے، بلکہ اسے ایک مشترکہ معاشرت میں ڈھالتے تھے۔

ہر کسی کے دکھ میں شریک میرا کزن عارف فوجی، خاموش طبع عارب بھائی، چاچا افضل اور محمد خان کے مسکراتے چہرے آج بھی یادوں میں محفوظ ہیں۔ اور میرے ہم جماعت امیر افسر شہید کو کیسے بھلایا جا سکتا ہے؟ بعض لوگ اپنی زندگی کے مختصر عرصے میں بھی ایسی یادیں چھوڑ جاتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ماند پڑنے کے بجائے مزید گہری ہو جاتی ہیں۔

ان لوگوں کے ساتھ وابستہ یادیں اس دور کی تصویر پیش کرتی ہیں جب گاؤں میں ایک دوسرے سے ملنے کے لیے کسی خاص موقع یا دعوت کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ لوگ روزمرہ کاموں کے دوران ایک دوسرے کے پاس بیٹھ جاتے، حال احوال پوچھتے اور اپنی زندگی کے چھوٹے بڑے معاملات بانٹ لیتے تھے۔

یہ بے تکلفی، اپنائیت اور میل جول ہماری معاشرت کی وہ خوبیاں تھیں جن کی قدر وقت گزرنے کے ساتھ مزید محسوس ہوتی ہے۔

کالا خان کو صلح جو طبیعت کے باعث یاد کیا جاتا تھا۔ انہوں نے حیدرآباد میں سیکڑوں لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے۔ زراعتی خان اور ولائتی خان بے ضرر بزرگ تھے، جب کہ ضابط خان مزارات سے عقیدت رکھنے والوں میں شمار ہوتے تھے۔ بابا گلزار گلشیئری سب کے مشترکہ بزرگ کی حیثیت رکھتے تھے، جب کہ کرم نور بی بی ایک باہمت خاتون کونسلر کے طور پر یاد کی جاتی ہیں۔

ملک مشتاق جیا سابق کونسلر تھے اور ذوالفقار علی بھٹو کے شیدائی تھے۔ بھٹو دور میں چینی، آٹے اور گھی کے پرمٹ ان کے پاس تھے۔ ان کی سیاسی وابستگی بھی ان کی شخصیت اور مقامی زندگی کے حوالے سے یاد کی جاتی ہے۔

ان شخصیات کے علاوہ گاؤں کی زندگی میں تعلیم، کھیل اور دوستی سے وابستہ لوگوں کا بھی اپنا مقام تھا۔ کرکٹ کے کھیل کا آغاز 1977ء میں ملک منصب دار نے کیا۔ اولین کھلاڑیوں میں ماسٹر احمد خان، ماسٹر ملک لال خان اور سید سجاول شاہ شامل تھے۔ بعد ازاں محمد طاہر بھی کرکٹ کے حوالے سے جانے جاتے تھے، جب کہ اعجاز ملک اپنی وفاداری اور دوست پروری کے باعث یاد کیے جاتے ہیں۔

راجہ خان زمان کبڈی کے کھلاڑی تھے۔ بیل دوڑوں کے شوقین حاجی ولایت خان اور شہزادہ خان بھی اس دیہی روایت سے وابستہ تھے۔ یوسف اور گل ترکھان، جنہیں جندر والے کہا جاتا تھا، غریب نوازی اور گاؤں کے لیے مفید کردار ادا کرنے کے حوالے سے یاد کیے جاتے ہیں۔

یہ سب لوگ اس معاشرتی تصویر کے مختلف رنگ تھے جس میں کھیل، دوستی، خدمت، عقیدت اور باہمی تعاون ایک ساتھ موجود تھے۔

بولیانوال کی علمی شناخت میں علامہ مولانا رفاقت قریشی صاحب کا ذکر خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کی علمی شخصیت گاؤں کی حدود سے آگے تک پہچانی جاتی تھی۔ نادر کتابوں پر مشتمل ان کی لائبریری علم دوستی کی علامت تھی، جب کہ ان کی خطابت کا چرچا پاکستان بھر میں تھا۔

کتاب سے محبت، علم کا ذخیرہ جمع کرنے کا شوق اور لوگوں تک اپنے خیالات پہنچانے کی صلاحیت کسی بھی معاشرے کے لیے قیمتی سرمایہ ہوتی ہے۔ مولانا رفاقت قریشی صاحب کی شخصیت اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ کسی گاؤں کی وسعت صرف اس کے رقبے سے نہیں ناپی جا سکتی؛ اس کی وسعت ان ذہنوں، کرداروں اور خوابوں سے بھی متعین ہوتی ہے جو اس مٹی میں جنم لیتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے