قصور (کیو این این ورلڈ/بیوروچیف طارق نوید سندھو) قصور کے مصروف مقام منڈی موڑ کے قریب مبینہ طور پر پی ٹی سی ایل کے عملے کی جانب سے کھودا گیا گڑھا چار روز گزرنے کے باوجود بند نہ ہو سکا، جس کے باعث شہریوں کو حادثات کے خطرات کا سامنا ہے۔ اہل علاقہ کے مطابق کھلے گڑھے میں اب تک تین کاریں گر چکی ہیں، جبکہ موٹر سائیکل سوار بھی حادثات سے بال بال بچ رہے ہیں۔
مقامی شہریوں کے مطابق گڑھے کی کھدائی کے دوران پانی کی پائپ لائن بھی متاثر ہوئی، جس کے باعث پانی کے ضیاع کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کھدائی کے بعد گڑھے کو بند کرنے اور متاثرہ پائپ لائن کی مرمت کے لیے فوری اقدامات نہیں کیے گئے، جس کے نتیجے میں یہ مقام ٹریفک کے لیے خطرناک بن گیا ہے۔
اہل علاقہ کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات اور گاڑی کی تصویر کے مطابق ایک سفید آلٹو کار کا اگلا حصہ گڑھے میں دھنس گیا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو کسی بڑے حادثے اور جانی نقصان کا خدشہ ہے۔
مقامی شہریوں نے پی ٹی سی ایل اور واسا کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ کھدائی کے بعد گڑھے کو کھلا چھوڑنا اور پانی کی پائپ لائن کی خرابی دور نہ کرنا عوام کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ متعلقہ محکمے ذمہ داری کا تعین کریں اور متاثرہ مقام کو فوری طور پر محفوظ بنایا جائے۔
شہریوں نے ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ فوڈ اسٹریٹ کی تزئین و آرائش پر توجہ دی جا رہی ہے، لیکن منڈی موڑ جیسے مصروف مقام پر کھلے گڑھے کی موجودگی تشویش ناک ہے۔ ان کے مطابق عوامی مقامات پر ترقیاتی کاموں کے ساتھ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کو بھی اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔
اہل علاقہ نے ڈپٹی کمشنر قصور سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صورت حال کا فوری نوٹس لیں، پی ٹی سی ایل اور واسا کے متعلقہ حکام سے جواب طلب کریں اور گڑھے کو فوری طور پر بند کرانے کے ساتھ متاثرہ پانی کی پائپ لائن کی مرمت یقینی بنائیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ذمہ داروں کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی بھی کی جائے۔