پشاور(کیو این این ورلڈ)گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ امن کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے اور پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب عوام کا پولیس پر اعتماد بحال ہو۔ پولیس افسران اوپن ڈور پالیسی اپنائیں، عوامی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں اور علاقے کے معززین کو اعتماد میں لے کر عوام اور پولیس کے درمیان رابطوں کو مضبوط بنائیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاؤس پشاور میں پولیس افسران کے ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید، ایڈیشنل آئی جی پولیس کاشف عالم، چیف کیپیٹل پولیس آفیسر ڈاکٹر میاں سعید اور ریجنل پولیس افسران نے شرکت کی، جبکہ ضلعی پولیس افسران ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ہے اور امن کے قیام کے لیے پولیس افسران اور جوانوں کی قربانیاں قابلِ قدر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امن کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ میں غلطی اور شکست کی کوئی گنجائش نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پولیس شہداء کے خاندانوں کے لیے شہداء پیکج میں اضافے کا اعلان سب سے پہلے انہوں نے کیا تھا اور اب صوبے میں پولیس شہداء کے بچوں کے لیے کیڈٹ کالج کے قیام کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔ گورنر نے پولیس افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں شہداء کے خاندانوں سے مسلسل رابطے میں رہیں اور ان کی دیکھ بھال کو اپنی ذمہ داری سمجھیں۔
گورنر کا کہنا تھا کہ ہر شہید کو اپنا شہید سمجھا جائے گا اور شہداء کے خاندانوں کو یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ حکومت اور ریاست ہر مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس مقصد کے لیے شہداء کے خاندانوں کے لیے خصوصی کارڈ متعارف کرائے جائیں گے، جن کے ذریعے سرکاری دفاتر میں ان کے مسائل عزت و تکریم کے ساتھ ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جا سکیں گے۔
فیصل کریم کنڈی نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں سیف سٹیز منصوبوں پر کام جاری ہے اور انہیں ضم اضلاع تک بھی وسعت دی جائے گی۔ ضم اضلاع میں پولیس تھانوں، چوکیوں، سہولیات اور دیگر انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو درپیش مسائل حل کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور ضروریات پوری کرنے کے لیے اے پی سیز، جدید اسلحہ اور دیگر وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کو درکار وسائل کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ترقیاتی فنڈز میں کٹوتی بھی کی جائے گی، جبکہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا پولیس کو 10 اے پی سیز فراہم کر چکی ہے۔ گورنر نے پولیس افسران کو ہدایت کی کہ محکمے میں خالی آسامیوں پر فوری بھرتیوں کے لیے اقدامات کیے جائیں تاکہ نفری کی کمی دور اور پولیس کی استعدادِ کار میں اضافہ کیا جا سکے۔
گورنر نے مزید ہدایت کی کہ پولیس لائنز، تھانوں اور چیک پوسٹوں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جائے تاکہ بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ ان کے مطابق پولیس کے لیے پروکیورمنٹ پر عائد پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے تاکہ ضروری سامان اور وسائل کی خریداری میں سہولت ہو۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعظم نے خیبرپختونخوا کے تمام مطالبات حل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ وزیراعظم کی جانب سے صوبے کے لیے پیکج کا اعلان بھی کیا گیا ہے، جس کا 70 فیصد حصہ ضم اضلاع میں خرچ کیا جائے گا۔
فیصل کریم کنڈی نے پولیس افسران کو ہدایت کی کہ ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسلز (ڈی آر سیز) کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے باصلاحیت اور اچھی شہرت کے حامل افراد کو شامل کیا جائے تاکہ عوام کے تنازعات مقامی سطح پر مؤثر انداز میں حل کیے جا سکیں۔ گورنر نے واضح کیا کہ ان کا کوئی فوکل پرسن نہیں ہے۔
اجلاس کے دوران پولیس افسران نے اپنے اپنے علاقوں میں درپیش مسائل، ضروریات اور مختلف تجاویز سے بھی آگاہ کیا، جن پر تفصیلی غور کیا گیا۔