مضرِ صحت گندم کی فراہمی پر سخت برہمی: فیصل کریم کنڈی کی غفلت کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت

پشاور (کیو این این ورلڈ):گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیرِ صدارت اضاخیل گندم گودام سے فلور ملز کو غیر معیاری اور خراب گندم کی فراہمی کے معاملے پر اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں گورنر انسپکشن ٹیم کے چیئرمین مختیار احمد نے انکوائری رپورٹ پیش کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 150 کنال پر محیط اضاخیل گودام کے دو بلاکس میں واقع چھ گودام سیلابی پانی سے متاثر ہوئے تھے۔ لیبارٹری تجزیے میں سیلاب سے متاثرہ گندم کو انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر اور ناقابلِ استعمال قرار دیا گیا ہے۔ انکوائری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ پی ڈی ایم اے کی جانب سے الرٹ کے باوجود گودام کو محفوظ رکھنے کے لیے حفاظتی تدابیر اختیار نہیں کی گئیں، اور نہ ہی متاثرہ گندم کا محکمہ خوراک کے اسٹاک ریکارڈ میں کوئی اندراج موجود ہے۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے اس سنگین غفلت پر سوال اٹھایا کہ بار بار کے سیلاب کے باوجود حفاظتی دیوار کیوں تعمیر نہیں کی گئی۔ انہوں نے فلور ملز کو مضرِ صحت گندم کی ترسیل فوری طور پر بند کرنے کا حکم دیتے ہوئے غفلت کے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی۔

دوسری جانب گورنر خیبرپختونخوا سے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف کی قیادت میں ہزارہ ڈویژن کے وفد نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ وفد میں سابق ڈپٹی اسپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی، رکن قومی اسمبلی بابر نواز خان، رکن صوبائی اسمبلی سردار شہجان یوسف اور دیگر رہنما شامل تھے۔

ملاقات میں سیاسی صورتحال اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر گورنر نے کہا کہ صوبے بھر میں تجاوزات کے خاتمے کے لیے آپریشن شروع کر دیا گیا ہے اور عوام کو اس تبدیلی کے مثبت ثمرات ملنے چاہئیں۔ ہزارہ ڈویژن کے وفد نے گورنر کے ترقیاتی اقدامات اور عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنے مکمل تعاون اور حمایت کا اعادہ کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے