اپر باڑہ میں زیتون کی کاشت اور جنگلات کے تحفظ کے اقدامات، مقامی آبادی کو معاشی فوائد کی امید

خیبر (کیو این این ورلڈ/نورحیم آفریدی) محکمہ جنگلات خیبر کی جانب سے اپر باڑہ سپاہ کے مختلف جنگلات میں زیتون کے 30 ہزار پودوں کی کامیاب قلم کاری کی گئی ہے، جس سے مقامی آبادی کو مستقبل میں زیتون کے تیل کی پیداوار کے ذریعے خاطر خواہ آمدن حاصل ہونے کی امید ہے۔ ڈسٹرکٹ فارسٹ آفیسر زاہد مسعود کی ذاتی دلچسپی سے کیے جانے والے اس اقدام کے ساتھ علاقے میں جنگلات کے تحفظ اور شجرکاری کے مزید منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔

خدمت خلق ویلفیئر سوسائٹی کے کوآرڈینیٹر برائے اپر باڑہ قاضی فرمان، قومی مشران حاجی سید لال باغوان، قاضی سراج، حاجی میراث خان اور دیگر عمائدین نے ڈسٹرکٹ فارسٹ آفیسر زاہد مسعود اور اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ فارسٹ آفیسر باڑہ اعجاز خان کی کارکردگی کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ زیتون کے پودوں کی قلم کاری اور جنگلات کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات علاقے کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔

قومی مشران کے مطابق زیتون کے پودے پھل دار ہونے اور ان سے تیل نکالنے کا عمل شروع ہونے کے بعد مقامی آبادی کے لیے آمدن کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس سے علاقے میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملنے کے ساتھ مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع بھی میسر آنے کی توقع ہے۔

مقامی مشران نے بتایا کہ محکمہ جنگلات کی جانب سے وادی تیراہ کے مقام سندانہ میں پہلے فارسٹ واچ ٹاور کی منظوری بھی اہم پیش رفت ہے، جہاں تعمیراتی کام جاری ہے۔ ان کے مطابق واچ ٹاور جنگلات کی نگرانی اور تحفظ میں کردار ادا کرے گا، جبکہ مستقبل میں مزید اقدامات سے جنگلات کو محفوظ بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دریائے باڑہ کے کناروں پر بانس لگانے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔ ان کے مطابق دریا کے کناروں پر بانس کی شجرکاری سے سیلابی ریلوں کے باعث زرعی زمینوں کو پہنچنے والے نقصان میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ علاقے کی قدرتی خوب صورتی میں بھی اضافہ ہوگا۔

قومی مشران نے مطالبہ کیا کہ نرے بابا، سندانہ، ننگروسہ، درے وانڈی اور کنڈاو جماعت کے جنگلات میں زیتون سمیت مزید پودے لگائے جائیں تاکہ علاقے میں شجرکاری کے دائرہ کار کو وسعت دی جا سکے۔

قاضی فرمان اور دیگر مشران نے کہا کہ اپر باڑہ میں محکمہ جنگلات فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے محکمہ جنگلات خیبر کے حکام کو اپنے تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ جنگلات کے تحفظ، شجرکاری اور مقامی آبادی کے معاشی مفادات کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے