اوچ شریف میں ریڑھیاں ضبط، بھاری ٹرکوں اور ٹرالوں کی سڑکوں پر موجودگی پر شہریوں کے سوالات

اوچ شریف (کیو این این ورلڈ، نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف میں تجاوزات کے خلاف انتظامیہ کی کارروائی پر مبینہ دوہرے معیار کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ایک طرف اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے سبزی اور دیگر اشیاء فروخت کرنے والے غریب ریڑھی بانوں کی ریڑھیاں ضبط کرکے احمدپور شرقیہ منتقل کی جا رہی ہیں، جبکہ دوسری جانب شہر کی سڑکوں پر بھاری ٹرکوں اور ٹرالوں کے ذریعے سامان اتارنے کے معاملات شہریوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ متاثرہ ریڑھی بانوں اور شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تجاوزات کے خاتمے کے لیے قانون کا اطلاق بلاامتیاز کیا جائے اور غریب محنت کشوں کے معاشی مسائل کو بھی مدنظر رکھا جائے۔

متاثرہ ریڑھی بانوں کے مطابق وہ سبزی منڈی سے کرائے پر ریڑھیاں حاصل کرکے روزانہ محنت مزدوری کرتے اور اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرتے تھے، تاہم انتظامیہ کی کارروائی کے نتیجے میں ان کا روزگار متاثر ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ محدود مالی وسائل کے باعث ماڈل بازار میں جگہ حاصل کرنے یا اپنی ریڑھی خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ایسے میں ریڑھیاں ضبط کیے جانے سے ان کے لیے روزگار جاری رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔

ریڑھی بانوں اور شہریوں کی جانب سے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر تجاوزات کے خاتمے کے لیے سڑکوں اور عوامی مقامات سے ریڑھیاں ہٹانا ضروری ہے تو شہر کی سڑکوں پر بھاری ٹرکوں اور ٹرالوں کی موجودگی اور سامان اتارنے کے دوران پیدا ہونے والی ممکنہ رکاوٹوں کا بھی جائزہ کیوں نہیں لیا جاتا؟ شہریوں کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے اور عوامی گزرگاہوں کو تجاوزات سے پاک رکھنے کے لیے تمام متعلقہ معاملات پر یکساں توجہ دی جانی چاہیے۔

شہریوں کے مطابق تجاوزات کے خاتمے کے لیے انتظامی اقدامات شہر کو صاف ستھرا رکھنے، ٹریفک کی روانی بہتر بنانے اور عوامی راستوں کو کھلا رکھنے کے لیے ضروری ہیں، تاہم ان اقدامات میں کسی قسم کا امتیاز نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کسی ریڑھی کے سڑک پر کھڑے ہونے سے تجاوزات کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو سڑکوں پر سامان اتارنے اور ٹریفک میں رکاوٹ بننے والی دیگر سرگرمیوں کا بھی قانون کے مطابق جائزہ لیا جانا چاہیے۔

متاثرہ محنت کشوں نے اس امر پر بھی زور دیا ہے کہ اگر انتظامیہ انہیں موجودہ مقامات پر کاروبار کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی تو ان کے لیے مناسب متبادل جگہ کا انتظام کیا جائے، تاکہ شہر میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے ساتھ ان کے خاندانوں کا ذریعۂ معاش بھی محفوظ رہ سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ محدود وسائل رکھنے والے افراد کے لیے ماڈل بازار میں جگہ حاصل کرنا ممکن نہ ہونے کی صورت میں متبادل انتظام کی ضرورت کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

متاثرہ ریڑھی بانوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، کمشنر بہاولپور اور ڈپٹی کمشنر بہاولپور سے مطالبہ کیا ہے کہ ضبط شدہ ریڑھیوں کی واپسی، تجاوزات کے خلاف کارروائی کے طریقۂ کار اور شہر بھر میں قانون کے یکساں نفاذ کا نوٹس لیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ غریب محنت کشوں کو روزگار جاری رکھنے کے لیے مناسب سہولت فراہم کی جائے اور ان کے معاشی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

دوسری جانب شہریوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ اوچ شریف کی سڑکوں پر بھاری ٹرکوں اور ٹرالوں کے ذریعے سامان اتارنے اور ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ پیدا ہونے کے معاملات کا جائزہ لے کر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ تجاوزات کے خاتمے کی مہم اسی صورت میں مؤثر اور قابلِ قبول ہو سکتی ہے جب اس کا اطلاق تمام افراد اور سرگرمیوں پر یکساں انداز میں ہو۔

متاثرہ ریڑھی بانوں اور شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا نوٹس لے کر متعلقہ انتظامیہ کو تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی، ضبط شدہ ریڑھیوں کے معاملے پر نظرثانی اور محنت کشوں کے لیے مناسب متبادل انتظام یقینی بنانے کی ہدایت کی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے