پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ، امریکی و اسرائیلی بمباری کے باوجود ایران کے میزائل ذخائر برقرار، تہران میں دھماکوں کی اطلاعات مسترد

پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ، امریکی و اسرائیلی بمباری کے باوجود ایران کے میزائل ذخائر برقرار، تہران میں دھماکوں کی اطلاعات مسترد

تہران(کیو این این ورلڈ) ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (پاسدارانِ انقلاب) نے مشرقی تہران میں دھماکوں کی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ علاقے میں کسی دھماکے یا سکیورٹی واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔ دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کے ایک سینئر مشیر نے کہا ہے کہ شدید بمباری کے باوجود ایران کی میزائل تنصیبات اور تزویراتی ذخائر محفوظ ہیں۔

ایرانی خبر رساں ادارے مہر کے مطابق، تہران صوبے میں پاسدارانِ انقلاب کے سیدالشہداء کور کے شعبہ تعلقاتِ عامہ نے پیر 19 اکتوبر کو سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی دھماکوں کی خبروں کو غلط قرار دیا۔

یہ تردید ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جنگ کے بعد خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور دھماکوں، فضائی حملوں اور فوجی سرگرمیوں کی اطلاعات نے سکیورٹی خدشات میں اضافہ کیا ہے۔

ادھر پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر کے سینئر مشیر محمدرضا نغدی نے پیر کے روز دعویٰ کیا کہ شدید بمباری کے باوجود ایران کی میزائل تنصیبات کو نقصان نہیں پہنچا اور ملک کے تزویراتی ذخائر بھی محفوظ ہیں۔ ایران انٹرنیشنل نے ان کا یہ بیان رپورٹ کیا، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

نغدی نے اگست کے آخر میں بھی دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے 90 فیصد سے زیادہ میزائل محفوظ ہیں اور مقامی سطح پر پیداوار کے ذریعے جنگ کے دوران استعمال ہونے والے میزائلوں کی کمی پوری کی جا رہی ہے۔

انہوں نے ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بیلسٹک میزائلوں کی پیداوار کی رفتار ان کے استعمال کی رفتار سے زیادہ ہے، اس لیے ایران کے میزائل ذخائر ختم نہیں ہوں گے۔

یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکی میڈیا کی بعض رپورٹس میں ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کو مکمل طور پر تباہ کرنے سے متعلق امریکی دعوؤں پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ان رپورٹس کے مطابق امریکی حملے ایران کے زیرِ زمین میزائل نیٹ ورکس اور ڈرون لانچنگ پلیٹ فارمز کو مکمل طور پر ناکارہ نہیں بنا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے