امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی حمایت اور ایران کی جوابی کارروائی کی دھمکی کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی حمایت کی ہے، جبکہ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اس کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو وہ جوابی کارروائی کرے گا۔
ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق اپنے سات روزہ منصوبے کو برقرار رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب نے بتایا کہ حوثی گروپ کی جانب سے داغے گئے ایک میزائل یا دیگر نوعیت کے پروجیکٹائل حملے کے نتیجے میں نجران میں 6 افراد زخمی ہوئے۔ مصر اور پاکستان نے سعودی عرب پر حملوں کی مذمت کی ہے۔
علاقائی سلامتی کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کے لیے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے حکام نے ابوظبی میں ملاقات بھی کی۔ اسی دوران خلیج تعاون کونسل (GCC) کے وزرائے خارجہ نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات اور بات چیت پر زور دیا۔
ادھر ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ دو ملین بیرل خام تیل لے جانے والا ایک سپر ٹینکر غیر مجاز راستہ استعمال کرتے ہوئے سمندری بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز، توانائی تنصیبات اور خلیجی ممالک کی سلامتی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔