بانی پی ٹی آئی کے مطالبے پر ہی مستعفی ہوں گا، محمود اچکزئی

قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے سے انکار کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی کی اعلیٰ سطحی کمیٹی کے اجلاس میں مبینہ طور پر محمود خان اچکزئی سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہ اجلاس ہفتے کی شام شروع ہو کر آدھی رات تک جاری رہا۔

محمود خان اچکزئی نے اتوار کی شب اپنی تحریکِ بحالیِ آئین کے اجلاس کے بعد قریبی ساتھیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر اڈیالہ جیل میں قید وہ شخص، جس نے انہیں قائدِ حزبِ اختلاف نامزد کیا تھا، عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کرے گا تو وہ مستعفی ہو جائیں گے۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے محمود اچکزئی کو رواں سال جنوری میں قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے قائدِ حزبِ اختلاف مقرر کیا تھا۔ انہیں اس عہدے کے لیے بانی پی ٹی آئی نے نامزد کیا تھا۔

محمود اچکزئی کی اسناد اور اہلیت سے متعلق طویل تنازع کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی نے ان کی تقرری کی تھی۔ وہ کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی اپنی جماعت کے واحد رکنِ پارلیمنٹ ہیں۔

محمود اچکزئی گزشتہ ہفتے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سے متعلق سیاسی بحران کے دوران شروع کیے گئے پی ٹی آئی کے نام نہاد لانگ مارچ میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ خبر کے مطابق یہ پیش رفت صوبے میں پی ٹی آئی کی 13 سالہ حکومت کے خاتمے کے پس منظر میں سامنے آئی۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی سے وابستہ آزاد ارکانِ قومی اسمبلی لانگ مارچ کے انعقاد اور اس کی منزل کے معاملے پر شدید اختلافات کا شکار تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے