ایڈمنٹن (کیو این این ورلڈ) کینیڈا کے صوبہ البرٹا کے شہر ایڈمنٹن میں خالصتان ریفرنڈم کے موقع پر بھارت مخالف نعروں کی گونج سنائی دی۔ شرکاء نے بھارت سے علیحدگی اور مشرقی پنجاب (خالصتان) کو آزاد ریاست قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔
سکھس فار جسٹس (ایس ایف جے) کے زیر اہتمام اس غیر پابند ریفرنڈم طرز کی پولنگ البرٹا اسمبلی (Alberta Legislative Assembly) کے باہر منعقد ہوئی۔ امریکا اور کینیڈا سے ہزاروں سکھ ایڈمنٹن پہنچے اور پولنگ مرکز کے باہر طویل قطاریں لگ گئیں۔
ریفرنڈم میں سکھ برادری کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مقام پر بھارتی جارحیت کے خلاف نعرے بازی کی گئی اور خالصتان کے قیام کے حق میں ووٹ ڈالے گئے۔ پولنگ شام پانچ بجے تک جاری رہی۔
سکھس فار جسٹس کے سربراہ گرپت ونت سنگھ پنوں کی قیادت میں یہ تقریب منعقد کی گئی۔ تنظیم نے اس سے پہلے بھی مختلف ممالک میں اسی قسم کے غیر پابند ریفرنڈم منعقد کیے ہیں۔ یہ ریفرنڈم بھارتی پنجاب کو آزاد ملک بنانے کے سوال پر مبنی تھا اور اس کا کوئی قانونی یا آئینی درجہ نہیں۔
اس دوران امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے پنوں کو ان کی زندگی کو درپیش ممکنہ خطرے سے آگاہ کیا تھا۔ پنوں نے بتایا کہ ایف بی آئی کے ایجنٹوں نے نیویارک میں ان کے گھر کا دورہ کر کے انہیں مطلع کیا۔
بھارت نے ایسے تمام اینٹی انڈیا سرگرمیوں کی سخت مذمت کی ہے اور خالصتان کی تحریک کو غیر قانونی قرار دیتا ہے۔ کینیڈا میں یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بھارت اور کینیڈا اپنے دوطرفہ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مقامی حکام نے تقریب کے دوران امن و امان برقرار رکھا جبکہ سکھ کمیونٹی کے اراکین نے اسے اپنے سیاسی حقوق کے اظہار کا موقع قرار دیا۔