خیبر (کیو این این ورلڈ/ نامہ نورحلیم آفریدی)خیبر سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن، یونیورسٹی آف پشاور نے وفاقی حکومت کی جانب سے قبائلی اضلاع کے لیے تشکیل دی گئی کونسل میں طلباء و طالبات کی نمائندگی کو نظر انداز کیے جانے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس فیصلے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
ایسوسی ایشن کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ قبائلی اضلاع کے مستقبل سے متعلق کسی بھی فیصلے میں نوجوانوں، بالخصوص طلباء و طالبات کی آواز شامل کرنا ناگزیر ہے۔ تعلیمی مسائل، وظائف کے اجراء، تعلیمی اداروں کی بہتری اور روزگار کے مواقع جیسے اہم معاملات پر مؤثر انداز میں آواز اٹھانے کے لیے کونسل میں طلباء کی حقیقی نمائندگی کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔
خیبر سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ تمام متعلقہ طلباء تنظیموں سے باقاعدہ مشاورت کے بعد طلباء و طالبات کی کسی نمائندہ شخصیت کو کونسل میں شامل کیا جائے تاکہ پالیسی سازی اور فیصلہ سازی کے عمل میں نوجوانوں کی مؤثر شرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔
ایسوسی ایشن نے واضح کیا ہے کہ کونسل میں طلباء کی نمائندگی کوئی احسان نہیں بلکہ ان کا بنیادی اور جائز حق ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات کو نظر انداز کیا گیا تو وہ دیگر تمام طلباء تنظیموں کو اعتماد میں لے کر ایک پُرامن اور جمہوری احتجاجی تحریک کا آغاز کریں گے۔