کراچی میں جرائم کی متعدد وارداتیں، پولیس مقابلوں میں 18 ملزمان گرفتار، اغوا برائے تاوان کے بعد نوجوان قتل، پولیس اہلکاروں کے جھگڑے کی انکوائری مکمل

کراچی (کیو این این ورلڈ/نمائندہ خصوصی ڈاکٹربشیر بلوچ) شہر قائد میں رات گئے مختلف علاقوں میں مبینہ پولیس مقابلوں کے دوران 12 زخمیوں سمیت 18 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ پولیس نے گرفتار افراد کے قبضے سے غیر قانونی اسلحہ، گولیاں، چھینے گئے موبائل فونز اور نقدی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسری جانب اسٹیل ٹاؤن سے اغوا کیے گئے 23 سالہ نوجوان کی بوری بند لاش برآمد ہوئی ہے، جس کے اغوا اور قتل کے الزام میں اس کے قریبی رشتے دار سمیت دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔ ادھر اورنگی ٹاؤن اور عزیز آباد میں دو افراد کی کئی روز پرانی لاشیں ملیں، جبکہ ناظم آباد میں ضلعی پولیس اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کے اہلکاروں کے درمیان جھگڑے کی انکوائری بھی مکمل کر لی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق ڈسٹرکٹ ویسٹ کے علاقے پاکستان بازار تھانے کی حدود بسم اللہ چوک پر پولیس اور مبینہ ڈکیت گروہ کے درمیان مقابلے کے بعد چار ملزمان کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔ ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی مستوئی کے مطابق گرفتار ملزمان کی شناخت فرقان ولد اکبر، شبیر علی عرف معصوم ولد بابر علی، محمد امتیاز ولد اشتیاق خان اور محمد حسن عرف منا ولد محمد نوشاد کے ناموں سے ہوئی ہے۔ ملزمان دو موٹرسائیکلوں پر سوار اور مسلح تھے۔

پولیس نے ملزمان کے قبضے سے دو غیر قانونی پستول، گولیاں، چلیدہ خول، موبائل فون اور نقدی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ دونوں موٹرسائیکلیں بھی تحویل میں لے لی گئی ہیں۔ زخمی ملزمان کو طبی امداد کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا۔

سرجانی ٹاؤن تھانے کی حدود ناردرن بائی پاس پر پولیس کے ساتھ مبینہ مقابلے کے دوران دو زخمیوں سمیت سات ملزمان گرفتار کیے گئے۔ ایس ایس پی ویسٹ کے مطابق زخمی ملزمان کی شناخت جاوید عرف استاد ولد فیاض اور صغیر احمد ولد شبیر احمد کے ناموں سے ہوئی، جبکہ دیگر گرفتار ملزمان میں طلعت ولد سہیل، سلمان عرف سورج ولد شوکت، وسیم ولد مظفر، توقیر ولد منیر اور پرویز ولد اللہ دیتہ شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان سے پانچ غیر قانونی پستول، گولیاں، چلیدہ خول، چھینے گئے چھ موبائل فونز اور نقدی برآمد ہوئی ہے۔ ملزمان کے زیرِ استعمال ایک رکشہ اور تین موٹرسائیکلیں بھی تحویل میں لے لی گئی ہیں، جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔

ڈسٹرکٹ سینٹرل کے علاقے نیو کراچی سیکٹر 11-J میں پرانے آئیڈیل شادی لان کے قریب مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ایک زخمی سمیت دو ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس کے مطابق زخمی ملزم کی شناخت ارشد خان ولد طور خان جبکہ دوسرے ملزم کی شناخت الامین ولد عالم شاہ کے نام سے ہوئی ہے۔ ترجمان ضلع سینٹرل پولیس کے مطابق ملزمان کے قبضے سے 30 بور پستول، لوڈ میگزین اور پانچ زندہ گولیاں برآمد ہوئیں۔ ان کے زیرِ استعمال سیاہ رنگ کی 70 سی سی موٹرسائیکل نیو کراچی تھانے کے مقدمے میں چوری شدہ مطلوب ہے۔

ایف بی انڈسٹریل ایریا پولیس نے لیاری ندی کے قریب لیاری ایکسپریس وے پر مبینہ مقابلے کے دوران رفیق ولد نیک محمد کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا، جبکہ اس کا ساتھی موٹرسائیکل چھوڑ کر فرار ہو گیا۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزم سے 30 بور پستول، لوڈ میگزین اور ایک زندہ کارتوس برآمد ہوا، جبکہ موٹرسائیکل کا ریکارڈ بھی چیک کیا جا رہا ہے۔

پاپوش نگر تھانے کی حدود اندرون قبرستان میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران محمد حامد خان ولد ظہور احمد کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔ پولیس کے مطابق ملزم کے قبضے سے 30 بور پستول، دو زندہ گولیاں اور ٹیکنو و موٹرولا کمپنیوں کے دو ٹچ اسکرین موبائل فونز برآمد ہوئے۔ زخمی ملزم کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

ڈسٹرکٹ ساؤتھ کے علاقے ڈیفنس فیز 6 میں خیابانِ محافظ، اسٹریٹ نمبر 16 کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں دو ملزمان زخمی حالت میں گرفتار ہوئے۔ انہیں جناح اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی شناخت 25 سالہ ساگر ولد لیاقت اور 20 سالہ امان اللہ ولد آمین کے ناموں سے ہوئی۔

ملیر کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن سیکٹر 19 میں ایک کمپنی کے قریب مبینہ پولیس مقابلے کے دوران 16 سالہ حسین ولد پیر زمان کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔ چھیپا ایمبولینس کے ذریعے اسے جناح اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ پولیس نے اس کے قبضے سے اسلحہ برآمد کرکے تحویل میں لے لیا۔ پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزمان کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ حاصل کیا جا رہا ہے اور فرار ہونے والے ملزمان کی تلاش جاری ہے۔

کراچی کے علاقے اسٹیل ٹاؤن، گلشن حدید میں جھاڑیوں سے 23 سالہ زین العابدین کی بوری بند لاش برآمد ہوئی ہے۔ اینٹی وائلنٹ کرائم سیل (اے وی سی سی) پولیس نے اغوا برائے تاوان اور قتل کے واقعے کی تفتیش کے دوران مقتول کے پھوپھی زاد بھائی سمیت دو ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس کے مطابق مقتول کے ہاتھ پشت پر بندھے ہوئے تھے۔

ایس ایس پی اے وی سی سی آصف رضا بلوچ کے مطابق زین العابدین کے اغوا اور قتل کا معمہ حل کرنے کے لیے کارروائی کی گئی اور گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر لاش برآمد کی گئی۔ لاش کو ضابطے کی کارروائی کے لیے جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

مقتول کے والد محمد خان نے 15 اکتوبر کو صبح ساڑھے گیارہ بجے اسٹیل ٹاؤن تھانے میں نامعلوم افراد کے خلاف اغوا برائے تاوان کا مقدمہ درج کرایا تھا۔ ان کے مطابق زین العابدین 14 اکتوبر کو صبح 9 بجے موٹرسائیکل پر گھر سے نکلا، لیکن واپس نہ آیا۔ تلاش کے باوجود اس کا سراغ نہ ملنے پر پولیس سے رجوع کیا گیا۔

والد کے بیان کے مطابق اسی روز شام تقریباً سوا چار بجے دو نامعلوم افراد گھر کے مرکزی دروازے سے ان کے بیٹے کا ٹچ موبائل فون، ایک کی پیڈ موبائل فون، شناختی کارڈ، اے ٹی ایم کارڈ، موٹرسائیکل کے کاغذات، خالی پرس اور ایک چپل سفید شاپر میں ڈال کر پھینک گئے۔ بعد ازاں مقتول کے زیرِ استعمال سم والے موبائل فون پر کال موصول ہوئی، جس میں مبینہ اغوا کاروں نے سات لاکھ روپے تاوان طلب کیا اور رقم ادا کرنے پر نوجوان کو چھوڑنے کا کہا۔

مقتول کے والد کے مطابق وہ تاوان کی رقم لے کر بتائے گئے مقام پر پہنچے اور کافی دیر انتظار کیا، لیکن متعلقہ افراد وہاں نہیں آئے۔ والد نے اپنے ویڈیو بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ملزمان نے ان کے بیٹے کا ایک ہاتھ کا پنجہ بھی بھیجا اور انہوں نے پانچ لاکھ روپے تاوان ادا کیے، تاہم اس کے باوجود بیٹے کو بازیاب نہیں کرایا جا سکا۔

والد نے پولیس کی کارروائی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ اغوا کاروں کی کالز اور دیگر شواہد سے متعلق پولیس کو آگاہ کرتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت کارروائی کی جاتی تو شاید نتیجہ مختلف ہوتا۔ مقتول غیر شادی شدہ تھا، چار بھائیوں اور ایک بہن میں دوسرے نمبر پر تھا اور سعودی عرب میں درزی کا کام کرتا تھا۔ اسے آئندہ چند ہفتوں میں واپس سعودی عرب جانا تھا۔

اے وی سی سی پولیس کے مطابق اغوا برائے تاوان کے مقدمے کی فائل جمعے کو موصول ہوئی، جس کے بعد تفتیشی افسر مقرر کرکے فوری طور پر تحقیقات شروع کی گئیں۔ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے۔

کراچی کے علاقوں اورنگی ٹاؤن اور عزیز آباد میں گھروں سے دو افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جو کئی روز پرانی بتائی جاتی ہیں۔ پولیس کے مطابق دونوں واقعات میں فوری طور پر موت کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی اور تحقیقات جاری ہیں۔

اورنگی ٹاؤن کی رحیم شاہ کالونی، سیکٹر 11 میں مسجد سے ملحقہ گھر کے واش روم سے 72 سالہ اختر حسین کی تعفن زدہ لاش ملی۔ ایس ایچ او مومن آباد شہباز یوسف کے مطابق متوفی گھر میں اکیلا رہائش پذیر اور بیمار تھا۔ اس کے بھائی نے ملاقات کے لیے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا، لیکن جواب نہ ملنے پر مددگار 15 پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے اور لاش عباسی شہید اسپتال منتقل کر دی۔ ابتدائی تحقیقات میں طبعی موت کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے، تاہم حتمی وجہ جاننے کے لیے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب عزیز آباد کے علاقے فیڈرل بی ایریا میں گھر سے ایک شخص کی لاش ملی، جو تین سے چار روز پرانی بتائی جاتی ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق متوفی بھی گھر میں اکیلا رہتا تھا۔ گھر سے تعفن اٹھنے پر علاقہ مکینوں نے پولیس کو اطلاع دی، جس کے بعد لاش ایدھی رضاکاروں کی مدد سے عباسی شہید اسپتال منتقل کی گئی۔ پولیس کے مطابق اس واقعے میں بھی موت کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی۔

کراچی کے علاقے ناظم آباد میں ضلعی پولیس اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) کے اہلکاروں کے درمیان جھگڑے کے واقعے کی انکوائری مکمل کر لی گئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق انکوائری رپورٹ میں ایس آئی یو اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی سفارش کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا رپورٹ اعلیٰ پولیس حکام کو ارسال کر سکتے ہیں، جبکہ واقعے میں بدانتظامی پر ضلع وسطی پولیس کے اہلکاروں کو بھی معطل کیے جانے کا امکان ہے۔

پولیس حکام کے مطابق چند روز قبل ملزمان کی گرفتاری کے معاملے پر دونوں پولیس یونٹس کے اہلکاروں کے درمیان جھگڑا ہوا تھا، جس کے دوران ڈی ایس پی شادمان سمیت ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا۔ ایس آئی یو ٹیم کی سربراہی سب انسپکٹر نور اللہ کر رہے تھے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ضلع وسطی پولیس نے اس معاملے میں پانچ ملزمان کو گرفتار کیا ہے، جبکہ شارٹ ٹرم اغوا برائے تاوان کے گروہ میں مبینہ طور پر شامل ایک پولیس کانسٹیبل تاحال مفرور ہے۔ واقعے سے متعلق انکوائری رپورٹ کی سفارشات اور مزید محکمانہ کارروائی کا انتظار ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے