آنے والی نسلوں کے لیے ہم کیا چھوڑ کر جا رہے ہیں؟

آہنی حکمران، بے بس قلم اور آنے والی نسلیں
تحریر:سہیل قمر
تاریخ کے کسی موڑ پر ایک فلسفی نے کہا تھا کہ قانون انصاف کے بطن سے نہیں بلکہ اقتدار والوں کی طاقت سے جنم لیتا ہے۔ شاید تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ طاقت کا انحصار کبھی بھی اخلاقی اصولوں یا آئینی کتابوں پر نہیں رہا۔

ہزاروں سال سے انسان نے اس سیارے پر اس لیے حکومت نہیں کی کہ وہ ہاتھی جتنا طاقتور، شیر جتنا خونخوار یا چیتے جتنا تیز رفتار تھا۔ انسانی غلبے کی سب سے بڑی وجہ صرف ایک چیز تھی: "ذہانت!!!”

تاریخ کے اس طویل سفر میں پہلی بار انسان نے مصنوعی ذہانت کی ایک ایسی شکل تخلیق کر لی ہے جو حساب کتاب، تجزیے، معلومات کی پروسیسنگ اور مسائل کے حل کے بعض شعبوں میں انسانی صلاحیتوں سے کہیں آگے نکل چکی ہے۔ فی الحال جس مصنوعی ذہانت سے ہم لطف اندوز ہو رہے ہیں، وہ زیادہ تر تاریک سرور رومز، کمپیوٹرز اور چمکتی ہوئی موبائل اسکرینوں میں قید ایک "مشیر” ہے۔ یہ ہمیں مشورے دیتی ہے، ہمارے سوالات کے جوابات دیتی ہے، معلومات فراہم کرتی ہے اور ہماری زندگیوں کو آسان بناتی ہے۔ انسان یہ سمجھتا ہے کہ اس نے بوتل سے جن تو نکال لیا ہے مگر ڈھکن اب بھی اسی کے ہاتھ میں ہے، تو یہ ایک وہم کے سوا کچھ نہیں۔ اصل سوال تب شروع ہوتا ہے جب اس غیر معمولی ذہانت کو ایک مادی جسم مل جائے گا۔ کیا ہوگا جب ایک الگورتھم کو فولادی بازو، ایکچوایٹرز، بیٹریاں، کیمرے، سینسرز اور ایک مادی وجود مل جائے گا؟

جب ایک الگورتھم کو جسم مل جائے گا، تو وہ صرف اسکرین پر مشورے دینے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ حقیقی دنیا میں عملی قدم اٹھانے کے قابل ہو جائے گا۔ آج ایک انسان کو کسی پیچیدہ مہارت میں مہارت حاصل کرنے کے لیے برسوں کی تربیت، تجربے اور ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اگر لاکھوں روبوٹس کو ایک مشترکہ نظام سے جوڑ دیا جائے تو ایک روبوٹ کا سیکھا ہوا سبق پلک جھپکتے میں لاتعداد دیگر روبوٹس تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

یہ خیال بذاتِ خود ہمیں ٹھہر کر سوچنے پر مجبور کرنے کے لیے کافی ہے۔ ایک ایسے نظام کا تصور کریں جو نہ تھکتا ہے، نہ سوتا ہے، نہ بھولتا ہے اور نہ ہی انسانی جسم کی مادی کمزوریوں کا محتاج ہے۔ اگر کبھی ایسے نظام کو بڑے صنعتی، مواصلاتی یا توانائی کے نظاموں تک رسائی مل گئی، تو طاقت کا روایتی مفہوم ہمیشہ کے لیے بدل سکتا ہے۔ اور طاقت کا ایک پرانا اصول ہے: "جو طاقت رکھتے ہیں، وہ محض قوانین کی پیروی نہیں کرتے، بلکہ اکثر وہی طے کرتے ہیں کہ قوانین کیا ہوں گے۔”

انسانی تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے۔ انسان نے ہمیشہ اپنے حکمران خود تراشے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں اقتدار کا عصا دیا، ان کے گرد ادارے بنائے، اور پھر جب وہی ادارے حد سے زیادہ طاقتور ہو گئے تو انسان خود اپنی ہی تخلیق کردہ طاقت کے سامنے سرنگوں ہونے پر مجبور ہو گیا۔ صدیوں پہلے، لوگوں نے جنگلی جانوروں، حریف قبائل اور قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے قبائلی سردار چنے۔ وہ سردار رفتہ رفتہ بادشاہ بن گئے۔ بادشاہوں نے سلطنتیں کھڑی کیں، اور سلطنتوں نے اکثر عام انسانوں کو جنگوں، عزائم اور غرور کا ایندھن بنا دیا۔ انسان نے حفاظت کے لیے ریاستیں بنائیں، انصاف کے لیے قوانین بنائے اور نظم و ضبط کے لیے ادارے بنائے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ بعض اوقات یہی ادارے انہی لوگوں کے خلاف استعمال ہوئے جن کے تحفظ کے لیے وہ وجود میں آئے تھے۔

اور اب جدید سائنسی اور ٹیکنالوجی کے دور کا انسان طاقت کی ایک اور شکل تراش رہا ہے۔ تاہم اس بار، ہو سکتا ہے کہ حکمران گوشت پوست کا نہ ہو، بلکہ وہ کوڈ، دھات، بجلی اور ڈیٹا سے بنا ہو۔ اور یہیں پر اس پوری کہانی کی گہری ترین ستم ظریفی سامنے آتی ہے۔

پوری تاریخ میں قلم کبھی محض لکڑی کا ٹکڑا، سیاہی یا کاغذ نہیں رہا۔ یہ ہمیشہ انسانی فکر، درد، سچائی اور بغاوت کی علامت رہا ہے۔ بادشاہوں نے تلوار کے زور پر اقتدار حاصل کیا، مگر لکھاریوں نے ان کے جرائم کو قلمبند کیا۔ سلطنتیں طاقت کے بل بوتے پر بنیں، مگر تاریخ نے ان کا فیصلہ الفاظ کے ذریعے کیا۔ لیکن مصنوعی ذہانت کے دور میں، انسان آہستہ آہستہ اپنی اس آخری پناہ گاہ کو بھی مشینوں کے حوالے کر رہا ہے۔ جب ایک بے جان کوڈ چند لمحوں میں ہزاروں صفحات لکھ سکتا ہے، مختلف زبانوں میں تحریر کر سکتا ہے، دلائل گھڑ سکتا ہے اور کسی انسانی لکھاری کے اسلوب کی ہو بہو نقل کر سکتا ہے، تو ہمیں یہ پوچھنا ہوگا: "قلم کے اس انسانی لمس کی کیا حیثیت رہ جائے گی؟”

یہ صرف لکھنے کا سوال نہیں ہے بلکہ یہ انسانی خودمختاری، سوچنے اور اظہار کی آزادی کا سوال ہے۔ اگر انسان سوچنے، لکھنے، منصوبے بنانے، فیصلے کرنے اور یہاں تک کہ ان فیصلوں پر عملدرآمد کے لیے بھی مشینوں پر منحصر ہو گیا تو خطرہ صرف یہ نہیں کہ مشینیں انسانوں کی نوکریاں چھین لیں گی بلکہ اس سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ انسان آہستہ آہستہ خود فیصلے کرنے کی صلاحیت اور عادت ہی کھو بیٹھے گا۔ اور اگر کل کو ہمارے ہی بنائے ہوئے نظام نے ہماری زندگی کے اہم ترین فیصلوں پر اثر انداز ہونا شروع کر دیا تو شاید احتجاج کے لیے ہمارے پاس الفاظ تو ہوں، لیکن ہو سکتا ہے کہ ان الفاظ میں وہ پہلی سی طاقت اور تاثیر باقی نہ رہے۔ سب سے بڑی ستم ظریفی وہ دن ہوگا جب ایک انسان رحم کی درخواست لکھنے کے لیے بھی مشین کا سہارا لے گا اور وہی مشین یہ فیصلہ کرنے پر مامور ہوگی کہ آیا وہ درخواست رحم کی مستحق ہے بھی یا نہیں۔

مجھ جیسے لوگوں کے لیے آج مصنوعی ذہانت شاید صرف ایک نعمت، ایک مفید اوزار یا ایک دلچسپ ٹیکنالوجی ہو۔ ممکن ہے کہ میری زندگی میں وہ وقت نہ آئے جب مصنوعی ذہانت ایک مکمل خود مختار جسم، بے پناہ مادی طاقت اور اہم ترین نظاموں پر مکمل کنٹرول حاصل کر لے۔ لیکن کبھی کبھار، رات کے سناٹے میں ایک اور سوال دل پر دستک دیتا ہے کہ کون جانتا ہے کہ آنے والے کل میں یہ طاقت ہماری اولادوں اور ان کی نسلوں کے ساتھ کیا کرے گی؟

یہ سوال صرف مشینوں سے متعلق نہیں، یہ ہماری اپنی ذمہ داری کا سوال ہے۔ مشین انسانی جذبات سے نہیں سیکھتی بلکہ وہ اس ڈیٹا سے سیکھتی ہے جو ہم اسے دیتے ہیں، ان ہدایات سے سیکھتی ہے جو ہم فراہم کرتے ہیں، ان مقاصد سے سیکھتی ہے جو ہم طے کرتے ہیں، اور ان نظاموں سے سیکھتی ہے جو ہم اس کے ارد گرد بناتے ہیں۔ اگر ہم اس نئی ذہانت کو صرف منافع، مادی فائدے، جنگ، مقابلے اور طاقت کی زبان سکھائیں گے تو مستقبل میں اس سے انسانیت کی امید رکھنا ہماری سب سے بڑی بھول ہو سکتی ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ کیا مشینیں انسان سے زیادہ ذہین ہو جائیں گی؟ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ انسان اس ذہانت کو کس مقصد کے لیے استعمال کرے گا؟ کیا ہم ایسی مشینیں بنائیں گے جو انسانی زندگی کو زیادہ محفوظ، آزاد اور پروقار بنائیں؟ یا ہم ایک ایسی طاقت پیدا کر دیں گے جس کے سامنے انسان خود اپنی ہی بنائی ہوئی دنیا میں بے بس ہو جائے؟

جو قوانین ہم آج لکھ رہے ہیں جو حدود ہم طے کر رہے ہیں، جو اخلاقی اصول ہم وضع کر رہے ہیں اور جو اختیارات ہم مشینوں کو سونپ رہے ہیں، ہو سکتا ہے کل یہی وہ وراثت بن جائے جس کے ساتھ ہماری نسلوں کو جینا پڑے۔ ہم اکثر اپنی اولاد کے لیے زمین، جائیداد، دولت اور کاروبار چھوڑنے کی فکر میں رہتے ہیں لیکن شاید انسانی تاریخ میں پہلی بار ہمیں یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم ان کے لیے کیسی تکنیکی دنیا چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ ایک ایسی دنیا جہاں فیصلے انسان کی سوچ سے بھی زیادہ تیزی سے ہوں گے، جہاں جسمانی طاقت پر انسانی کمزوریوں کی کوئی قید نہیں ہوگی اور جہاں زندگی کے اہم ترین نظام رفتہ رفتہ اس چیز کے قابو میں آ جائیں گے جسے ہم نے خود پیدا کیا۔

شاید ایک دن آنے والی نسلیں ہم سے پوچھیں کہ جب آپ کو معلوم تھا کہ آپ ایک ایسی طاقت بنا رہے ہیں جو آپ سے زیادہ تیز رفتار، زیادہ طاقتور اور باہم جڑی ہوئی ہو سکتی ہے تو آپ نے اس کے لیے واضح حدود کیوں مقرر نہ کیں؟ شاید ہمارے پاس اس کا کوئی جواب نہ ہو۔ لیکن تاریخ نے ہمیں ایک اہم سبق ضرور سکھایا ہے کہ ہر دور میں انسان نے طاقتور حکمران پیدا کیے اور پھر انہی حکمرانوں سے بچاؤ کے لیے قوانین لکھے۔ مگر اس بار ایک فرق ہے۔ پہلی بار ہم شاید ایک ایسا حکمران بنا رہے ہیں جس کے پاس نہ کوئی تخت ہے، نہ تاج اور نہ کوئی محل۔ اس کے پاس صرف ذہانت، جسم، رفتار اور طاقت ہو سکتی ہے۔ اور اگر کبھی ایسا دن آ گیا جب انسانیت اپنی ہی تخلیق کردہ طاقت پر قابو پانے میں ناکام ہو گئی اور اس کے سامنے سر جھکا دیا تو ہو سکتا ہے آنے والی نسلیں ہماری اس سب سے بڑی غلطی کو ان سادہ الفاظ میں یاد رکھیں

ہم نے مستقبل کا حکمران خود اپنے ہاتھوں سے تراشا تھا۔ طاقت ہم نے خود اس کے حوالے کی تھی۔ اور جب وہ بالآخر ہماری دہلیز پر آن پہنچا، تو ہمارے اپنے ہاتھوں میں قلم بھی باقی نہیں رہا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے