پشاور (کیو این این ورلڈ/خصوصی رپورٹ) دیر کالونی میں واقع ایک سکول کی چھت گرنے کے المناک حادثے میں جاں بحق ہونے والے 33 بچوں اور ایک خاتون ٹیچر کی اجتماعی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔
اجتماعی نماز جنازہ میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، مسلم لیگ (ن) کے رہنما ملک طارق اعوان، پولیس افسران، شہداء کے لواحقین اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے شہید بچوں کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔
بعد ازاں گورنر خیبر پختونخوا نے جائے وقوعہ کا دورہ بھی کیا اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دیر کالونی سکول کے اس افسوسناک واقعے پر ہر شہری افسردہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔

گورنر نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے جو معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حادثے میں جو بھی ذمہ دار پایا گیا، اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سب سے پہلے یہ معلوم کیا جائے گا کہ سکول کو این او سی کس نے جاری کیا تھا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس افسوسناک واقعے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور واقعے کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔

گورنر خیبر پختونخوا نے اعلان کیا کہ حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو 10، 10 لاکھ روپے دیے جائیں گے جبکہ زخمی ہونے والوں کو 2، 2 لاکھ روپے مالی امداد فراہم کی جائے گی۔
یہ سانحہ پشاور کے علاقے دیر کالونی میں پیش آیا جہاں سکول کی چھت اچانک گر گئی جس کے نتیجے میں متعدد بچے اور ایک خاتون ٹیچر جاں بحق ہو گئے۔ واقعے نے پورے صوبے میں سوگ کی لہر دوڑا دی ہے۔
