آوازِ انقلاب

ہم دیکھیں گے
تحریر ۔ سید نذیر شاہ
پرانے انقلابات کی دنیا چند سادہ مگر اٹل محرکات یعنی بھوک، جبر اور توہین کے شعلوں پر مبنی تھی، جہاں عوام زندان اور لگان میں پس رہے تھے۔ اس دور میں رابطے اور خبر کے فقدان کو پُر کرنے کے لیے ایک نظریاتی قیادت سامنے آتی تھی، جو کتابیں پڑھنے، شعلہ بیانی سے عوام کے اندر پنہاں غصے کو ایک منظم نعرے میں ڈھالنے کا فن خوب جانتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ فرانس میں وکیلوں اور صحافیوں نے، روس میں لینن، چین میں ماؤ زے تنگ، ایران میں خمینی اور کیوبا میں کاسترو نے اس قیادت کا کردار ادا کیا۔ اس عہد میں انقلاب ایک انتہائی سخت اور خونی عمل تھا جس میں پمفلٹ چھپانے، خفیہ میٹنگز، گرفتاریوں اور سالہا سال جیل جیسی بھاری قیمت چکانی پڑتی تھی، مگر اسی کٹھن عمل سے گزرنے کی وجہ سے وہ لوگ انتہائی منظم ہو جاتے تھے۔ طاقت تب صرف محل تک محدود تھی اور اس پر قبضہ کر لینے سے پورا ملک فتح ہو جاتا تھا۔ پرانے انقلاب کی اس پاکیزہ اور لرزہ خیز عوامی جدوجہد میں کوئی ڈیجیٹل شارٹ کٹ یا چند گھنٹوں میں وائرل ہو جانے والا کوئی سوشل میڈیا ٹرینڈ موجود نہیں تھا، بلکہ یہ خون سے لکھی گئی وہ داستان تھی جس کی ہر سطر قربانی، پامردی اور استقامت کی لازوال سند تھی۔

تاہم پرانے اور نئے انقلاب کا تقابل کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اکیسویں صدی میں ان کا ڈی این اے یکسر بدل چکا ہے۔ آج سری لنکا، کینیا، بنگلہ دیش اور نیپال میں سڑکوں پر نکلنے والا نوجوان بھوکا نہیں ہے اس کے ہاتھ میں تین وقت کی روٹی سے زیادہ مہنگا موبائل ہے، گھر میں بجلی ہے، وہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل اور دنیا بھر کی خبروں سے باخبر ہے۔ اس کا اصل مسئلہ خوراک کی قلت نہیں بلکہ فیصلوں میں اختیار نہ ملنا ہے۔ جب کسی معاشرے میں لاکھوں پڑھے لکھے نوجوان پیدا کرنے کے بعد ان سے صرف ووٹ ڈالنے، ٹیکس دینے اور تالی بجانے کی توقع رکھی جائے اور تمام بنیادی فیصلے وہی چند مخصوص خاندان کریں، تو وہاں بھوک کی جگہ شدید سیاسی اور سماجی گھٹن جنم لیتی ہے۔ بھوکا شخص تو روٹی ملتے ہی گھر چلا جاتا ہے، لیکن یہ گھٹن زدہ نسل پورا نظام گرائے بغیر نہیں رکتی، جیسا کہ حالیہ دنوں میں بھارت کی جین زی (Gen Z) میں نظر آ رہا ہے جسے پیٹ کے بجائے اپنے حقوق اور اختیار کی بھوک ہے۔

پرانے اور نئے انقلاب کا دوسرا اہم ترین فرق طریقہ کار کا ہے جہاں پرانے انقلاب کو منظم کرنے کے لیے باقاعدہ دفتر، جماعت اور نظریے کی ضرورت ہوتی تھی، وہیں نیا انقلاب صرف ایک ہیش ٹیگ کا محتاج ہے۔ سوشل میڈیا نے روایتی قیادت کو مکمل طور پر غیر ضروری بنا دیا ہے اور اب محض ایک واٹس ایپ گروپ، ٹوئٹر، فیس بک یا ٹک ٹاک ویڈیو اور انسٹاگرام لائیو کسی بھی مرکزی کمان کے بغیر پورے شہر کو ایک چوک میں اکٹھا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگرچہ حکومت کسی ایک لیڈر کو گرفتار تو کر سکتی ہے لیکن کسی ہیش ٹیگ کو قید کرنا ممکن نہیں، تاہم اس سہولت کا دوسرا رخ بے حد شدید نقصان دہ ہے۔ کسی ذمہ دار لیڈر سے مذاکرات کر کے معاملے کا حل نکالا جا سکتا ہے یا کسی سیاسی پارٹی سے معاہدہ ممکن ہوتا ہے، لیکن ایک بے سمت ہجوم اور انٹرنیٹ ٹرینڈ سے بات چیت یا معاہدہ کرنا ناگزیر حد تک ناممکن ہے۔ یہی تضاد آج کے انقلاب کو بیک وقت بے حد طاقتور اور انتہائی کمزور بنا دیتا ہے، کیونکہ حکومت گرانے کا ہنر تو ہر شخص کے موبائل میں آ گیا ہے، مگر حکومت چلانے کی صلاحیت کسی ایپ سے ڈاؤن لوڈ نہیں کی جا سکتی۔

تیسرا اور فیصلہ کن فرق ان کے نتائج کا ہے، کیونکہ طاقت اب کسی ایک محل میں قید رہنے کے بجائے بینکوں، آئی ایم ایف جیسے مالیاتی اداروں، ملٹی نیشنل کمپنیوں، عدالتوں، سرکاری اداروں اور فیس بک و ٹک ٹاک کے الگورتھم میں تقسیم ہو چکی ہے۔ اسی لیے اگر حکومت گرا دی جائے اور وزیراعظم ہاؤس خالی بھی کرا لیا جائے تو ملک کا اصل آپریٹنگ سسٹم وہیں قائم رہتا ہے، کیونکہ اقتدار کی ظاہری تبدیلی سے وہ پسِ پردہ نظام متاثر نہیں ہوتا جو دہائیوں سے ریاست کے نظم و نسق، انتظامی پالیسیوں اور فیصلہ سازی کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہے ۔ ایسے میں جب بغیر کسی متبادل معاشی و انتظامی پلان کے محض غصے کی بنیاد پر کرسی خالی کرائی جاتی ہے تو اقتدار نچوڑنے کے بجائے ایک خطرناک خلا پیدا ہوتا ہے۔ تاریخ کا اصول ہے کہ یہ خلا ہمیشہ وہی قوت پُر کرتی ہے جو سب سے زیادہ منظم ہو۔ مصر کے تحریر چوک میں بھی یہی ہوا کہ لاکھوں نوجوانوں کے نعروں کے باوجود کرسی خالی ہوتے ہی اقتدار پر وہ آ کر بیٹھ گئے جن کے پاس وردی، تنظیم اور بندوق تھی، اور انقلاب کا اصل فائدہ نعرہ لگانے والوں کو نہ مل سکا۔

پاکستان کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو یہ تینوں تبدیلیاں یہاں بیک وقت اور زیادہ شدت سے موجود ہیں۔ ملک کی ساٹھ فیصد سے زائد آبادی تیس سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے اور ہم پچھلے پچاس سال میں اسلامی انقلاب، روٹی کپڑا مکان، روشن خیالی، ووٹ کو عزت دو اور حقیقی آزادی کے تمام نعرے آزما چکے ہیں۔ ہر نعرے کے بعد جب پردہ گرتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ گاڑی کا زنگ آلود ڈھانچہ وہی ہے، صرف ڈرائیور کی ٹوپی بدلی ہے۔ ہمارا سیاسی ڈھانچہ منطقی طور پر بانجھ ہو چکا ہے جو چند سو خاندانوں اور الیکٹیبلز کو تو سنبھال سکتا ہے، مگر ہر سال یونیورسٹیوں سے نکلنے والے لاکھوں باصلاحیت نوجوانوں کو فیصلہ سازی میں جگہ دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ آج وہ نوجوان کسی جھنڈے کے پیچھے نہیں چل رہا، وہ سیدھا سوال کر رہا ہے کہ میری نوکری کہاں ہے، میری شکایت کیوں درج نہیں ہوتی، میرا انٹرنیٹ کیوں بند ہوتا ہے؟ ۔ فیض احمد فیض نے کہا تھا کہ ” ہم دیکھیں گے ” مگر تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ دیکھنے کا کام ہمیشہ عوام کرتے ہیں اور حکمران اس وقت تک نہیں دیکھتے جب تک محل کی اینٹیں ان کے لان میں نہ آ گریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے