خیبر (کیو این این ورلڈ، نورحلیم آفریدی) خیبر پختونخوا میں موبائل نیٹ ورکس کی بندش کی اطلاعات کے درمیان ضلع خیبر میں ممکنہ جبری ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی اور مطالبہ کیا کہ قبائلی عوام کے آئینی، قانونی اور جمہوری حقوق کا احترام کیا جائے۔
مظاہرے میں قبائلی عوام، سیاسی کارکنان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ شرکاء نے ممکنہ ایمرجنسی کے نفاذ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی اہم آئینی اور انتظامی فیصلے سے قبل مقامی آبادی، منتخب عوامی نمائندوں اور قبائلی مشران کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے۔
مظاہرے سے پاکستان تحریکِ انصاف تحصیل باڑہ کے ترجمان محب اللہ آفریدی، زاہداللہ آفریدی، صدر تاجر یونین سید آیاز وزیر اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ قبائلی عوام نے ہمیشہ پاکستان کی سلامتی، دفاع اور استحکام کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں، اس لیے ان کے حقوق اور احساسات کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کے عوام پہلے ہی مختلف مشکلات اور مسائل کا سامنا کرتے رہے ہیں، ایسے میں کوئی بھی ایسا فیصلہ جس سے عوام میں احساسِ محرومی بڑھے، حالات کو مزید پیچیدہ کر سکتا ہے۔ مقررین نے زور دیا کہ وفاقی حکومت قبائلی عوام کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنے اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جنہیں عوام اپنے حقوق اور منتخب قیادت کے اختیارات میں مداخلت تصور کریں۔
مقررین نے ضلع خیبر سمیت قبائلی اضلاع میں ممکنہ ایمرجنسی کے نفاذ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئین و قانون کی بالادستی، عوامی مینڈیٹ کا احترام اور بنیادی حقوق کا تحفظ جمہوری نظام کے بنیادی اصول ہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی بڑے فیصلے کے لیے متعلقہ آئینی تقاضوں کو پورا کرنے کے ساتھ عوامی نمائندوں اور مقامی قیادت سے مشاورت بھی اہم ہے۔
اس موقع پر وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی کے ساتھ بھرپور اظہارِ یکجہتی کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ صوبائی حکومت اور وزیرِ اعلیٰ کے آئینی و جمہوری اختیار کا احترام کیا جانا چاہیے اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان اختلافات کو سیاسی محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات اور آئینی طریقۂ کار کے ذریعے حل کیا جائے۔
مظاہرین نے خیبر پختونخوا میں موبائل نیٹ ورکس کی بندش سے متعلق اطلاعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو اطلاعات تک رسائی اور رابطوں کی سہولت میسر رہنی چاہیے، جبکہ کسی بھی پابندی یا انتظامی اقدام کے حوالے سے واضح وجوہات اور متعلقہ حکام کی وضاحت سامنے آنی چاہیے۔
احتجاج کے شرکاء نے قبائلی عوام کے حقوق کے تحفظ، ممکنہ جبری ایمرجنسی کے خلاف آواز بلند کرنے اور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے آئینی اور جمہوری حقوق کے لیے پُرامن جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔