اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال، دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خدشات اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں وفاقی حکومت نے صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے آئینی آپشنز پر غور تیز کر دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری کے درمیان مشاورت کے بعد وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کیا گیا ہے، جس میں صوبے کی صورتحال اور ممکنہ آئینی اقدامات کا جائزہ لیا جانا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے صدر مملکت آصف علی زرداری سے ایوان صدر میں ملاقات کی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال، بالخصوص خیبرپختونخوا میں امن و امان کے حالات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ یا گورنر راج سمیت مختلف آئینی راستوں پر غور کر رہی ہے۔
حکومتی حلقوں میں اس معاملے پر مشاورت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد کی طرف احتجاجی مارچ جاری ہے اور وفاقی حکومت و خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کے درمیان سیاسی اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں۔
وفاقی حکومت کے بعض رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ صوبے میں دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات اور امن و امان کی بحالی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تعاون ضروری ہے۔ دوسری جانب صوبائی حکومت اور تحریک انصاف کی قیادت وفاقی حکومت کے ممکنہ اقدامات پر تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خیبرپختونخوا کی صورتحال پر تفصیلی غور اور دستیاب آئینی اختیارات کے حوالے سے فیصلہ متوقع ہے۔ حکومتی سطح پر ایمرجنسی اور گورنر راج کے امکانات زیر بحث ہیں، تاہم ان دونوں اقدامات کے آئینی تقاضے الگ الگ ہیں۔
آئین پاکستان کا آرٹیکل 232 مخصوص حالات، جن میں داخلی انتشار کی ایسی صورتحال بھی شامل ہو سکتی ہے جس پر صوبائی حکومت قابو پانے سے قاصر ہو، ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق ہے۔ اسی طرح آرٹیکل 234 اس صورت میں صوبے میں آئینی نظام چلانے میں ناکامی سے متعلق اقدامات کی گنجائش فراہم کرتا ہے جب صدر مملکت کو متعلقہ آئینی شرائط پوری ہونے پر اطمینان ہو جائے۔
آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کے نفاذ کی صورت میں صدر مملکت آئینی طریقۂ کار کے مطابق صوبائی حکومت کے بعض یا تمام انتظامی اختیارات گورنر کو سونپ سکتے ہیں۔ تاہم ایسے اقدام کے لیے متعلقہ آئینی شرائط اور طریقۂ کار کی پابندی ضروری ہے۔
خیبرپختونخوا کی صورتحال پر حتمی اقدام سے قبل سیاسی رابطوں اور مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ رپورٹس کے مطابق مولانا فضل الرحمان سے رابطے اور مشاورت کا مقصد دہشت گردی کے خلاف وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تعاون کی راہ ہموار کرنا اور سیاسی تناؤ کم کرنا ہے۔
وفاقی حکومت کے لیے ایک طرف صوبے میں امن و امان کی صورتحال اہم معاملہ ہے تو دوسری طرف احتجاجی مارچ اور سیاسی اختلافات کے باعث حالات مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ بھی زیر بحث ہے۔
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے باوجود صدارتی دستخط، سرکاری اعلامیے کے اجرا اور باقاعدہ نفاذ کی حیثیت الگ الگ تصدیق طلب معاملات ہیں۔ دستیاب تازہ رپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت آئینی اقدامات پر غور کر رہی ہے، جبکہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اس حوالے سے پیش رفت متوقع ہے۔
صوبے میں کسی بھی آئینی اقدام کا حتمی فیصلہ، اس کی وجوہات، دائرۂ کار اور نفاذ کی تاریخ سرکاری اعلامیے یا متعلقہ حکام کی باضابطہ تصدیق کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔