وفاقی کابینہ اجلاس: کے پی حکومت دہشت گردوں کے خلاف وفاق کا ساتھ دینے کو تیار نہیں، شہباز شریف

اسلام آباد: (کیو این این ورلڈ) وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے انتہائی اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں روزانہ کی بنیاد پر دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں لیکن صوبائی حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، جو درحقیقت دہشت گردی کی معاونت کے مترادف ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ وفاق نے کے پی کو انسدادِ دہشت گردی کے لیے 800 ارب روپے فراہم کیے، مگر اس کے باوجود ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان اور دیگر اضلاع میں مسلسل حملے ہو رہے ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی کے پاس اتنی توفیق بھی نہیں کہ وہ شہدا کے ورثا، یتیموں اور بیواؤں سے ہمدردی کا اظہار کریں۔ وفاق چاہتا ہے کہ صوبائی حکومت مل کر دہشت گردی کا قلع قمع کرے، مگر کے پی حکومت وفاق کا ساتھ دینے کے بجائے اسلام آباد پر چڑھائی کے منصوبے بناتی رہی ہے۔

شہباز شریف نے واضح کیا کہ افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال کسی صورت قابلِ قبول نہیں اور لانگ مارچ و دھرنوں سے متعلق ہمارے مطالبات کا صوبائی حکومت نے کوئی مثبت جواب نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ اب پانی سر سے اوپر گزر چکا ہے، "اب نہیں تو کبھی نہیں” کے تحت فیصلے کا وقت آ گیا ہے ورنہ تاریخ معاف نہیں کرے گی۔ قانون اب اپنا راستہ خود بنائے گا اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاق کا عزم غیر متزلزل ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے