اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خیبرپختونخوا کی موجودہ امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد گورنر فیصل کریم کنڈی کو صوبے کے چیف ایگزیکٹو کے اختیارات دیے جانے کا فیصلہ ہوا ہے، جس کے تحت وہ صوبے کا مکمل انتظامی کنٹرول سنبھال لیں گے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت ایکس فاٹا کے 8 اضلاع کے ساتھ ٹانک، ڈی آئی خان، لکی مروت اور بنوں کے لیے ایک الگ سیکرٹریٹ قائم کیا جائے گا۔ اس سیکرٹریٹ کا ہیڈکوارٹر سابق فاٹا کے کسی ضلع میں بنایا جائے گا جہاں ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل آئی جی پولیس تعینات ہوں گے اور وفاق اس کے لیے خصوصی فنڈز فراہم کرے گا۔
تاہم نفاذ سے قبل نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کیا اور مذاکرات کے حوالے سے بات چیت کی ہوئی۔ مولانا فضل الرحمان کی کاوشوں اور مداخلت پر حکومت نے گورنر راج کے فوری نفاذ کو روکتے ہوئے خیبرپختونخوا حکومت کو ایک اور موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت سے رابطہ کر کے اس معاملے پر ردعمل سے حکومت کو آگاہ کریں گے۔