ریاض: کنگ خالد ایئرپورٹ پر حوثیوں کی کارروائی، سعودی اتحاد کا جوابی قدم اور ٹرمپ و شہباز شریف کی مذمت

ریاض(کیو این این ورلڈ)سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثی ملیشیا کے حملے میں 12 افراد ہلاک اور 309 زخمی ہو گئے، جبکہ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 4 سعودی، 2 بنگلہ دیشی جبکہ امریکا، مصر، اردن، شام، فلسطین اور سوڈان کا 1، 1 شہری شامل ہے۔ تمام زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے جبکہ ایئرپورٹ کی املاک کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے حملے کا الزام یمن کے حوثی باغیوں پر عائد کرتے ہوئے اسے جنگی جرم قرار دیا ہے اور بھرپور جوابی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب حملے پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاض ایئرپورٹ پر حملے کو خوفناک قرار دیا، جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایک امریکی شہری کی ہلاکت کی تصدیق کی اور اسے معصوم شہریوں کی زندگیوں سے کھیلواڑ قرار دیا۔

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے اور پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے