میرپور ماتھیلو (کیو این این ورلڈ/ نامہ نگار مشتاق علی لغاری) میرپور ماتھیلو میں ایڈووکیٹ علی حسن ملانو کے دفتر پر پولیس اہلکاروں کے مبینہ حملے، دفتر کے کلرک کو اغوا کرنے اور لوٹ مار کے الزامات کے خلاف وکلا برادری کا احتجاج مقدمے کے اندراج پر منتج ہوا۔ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن گھوٹکی اور تعلقہ بار ایسوسی ایشن میرپور ماتھیلو کے وکلا نے واقعے کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے رات بھر دھرنا دیا اور مبینہ طور پر ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
تفصیلات کے مطابق ایڈووکیٹ علی حسن ملانو کے دفتر پر مبینہ حملے، کلرک کو اغوا کرنے اور لوٹ مار کے الزامات سامنے آنے کے بعد وکلا برادری میں تشویش پھیل گئی۔ واقعے کے خلاف ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن گھوٹکی اور تعلقہ بار ایسوسی ایشن میرپور ماتھیلو کے وکلا نے احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
وکلا نے مقدمہ درج نہ ہونے پر رات بھر دھرنا جاری رکھا اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا نوٹس لے کر ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ وکلا کے مطابق رات بھر جاری رہنے والے احتجاج کے بعد بالآخر پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا، جس پر وکلا نے اپنے اتحاد کے حق میں نعرے لگائے۔
وکلا برادری نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں، تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور اگر الزامات ثابت ہوں تو ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ ان کا مؤقف ہے کہ کسی بھی شہری یا وکیل کے دفتر میں مبینہ طور پر غیر قانونی مداخلت، تشدد، اغوا یا لوٹ مار جیسے الزامات کی مکمل تحقیقات ضروری ہیں۔
تاہم، مقدمے کے اندراج کی تصدیق کے ساتھ اس کی ایف آئی آر نمبر، درج دفعات، نامزد ملزمان اور پولیس کا باضابطہ مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔ ان تفصیلات کی دستیابی کے بعد واقعے کے قانونی پہلوؤں اور پولیس اہلکاروں پر عائد الزامات کی مزید وضاحت ہو سکے گی۔
