ریاض (کیو این این ورلڈ / ایجنسیاں): یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ کیا، جس کے بعد سعودی ایئرلائنز (Saudia) کے ایک تجارتی طیارے میں آگ بھڑک اٹھی اور طیارے کو شدید نقصان پہنچا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز اور دیگر ذرائع کے مطابق طیارہ ایئرپورٹ پر کھڑا تھا اور اس وقت اس میں کوئی مسافر موجود نہیں تھا۔ گواہوں اور معاملے سے آگاہ افراد نے بتایا کہ سیاہ دھوئیں کا ایک موٹا کالم اور شعلے طیارے سے اٹھ رہے تھے۔ ویڈیوز میں بھی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 4 کے قریب دھواں اور نقصان کا شکار ہوائی جہاز دکھائی دے رہا ہے۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ ان کی افواج نے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا جو “درست ہدف” پر لگا اور فضائی آمدورفت میں خلل پیدا ہوا۔ انہوں نے نجران ایئرپورٹ اور خمیس مشیط میں کنگ خالد ایئر بیس کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا اور سعودی عرب پر مزید حملوں کی دھمکی دی۔ حوثیوں نے ایئرلائنز کو سعودی فضائی حدود سے دور رہنے کی “آخری وارننگ” بھی جاری کی اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اشارہ کیا۔
دوسری جانب سعودی قیادت والے اتحاد نے کہا کہ ریاض کی جانب آنے والے دو بیلسٹک میزائل اور خمیس مشیط کی سمت ایک میزائل کو کامیابی سے روک لیا گیا۔ سعودی حکام کے مطابق روکے گئے میزائل کے ملبے سے ریاض میں ایک کنڈرگارٹن اور طبی کمپلیکس کو نقصان پہنچا۔ تاہم اس مخصوص واقعے میں فوری طور پر جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔
حملے کے بعد کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازوں کا نظام شدید متاثر ہوا۔ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق ایئرپورٹ کچھ عرصے کے لیے بند رہا اور متعدد پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہوئیں۔ سرکلر (Cirium) کے ڈیٹا کے مطابق تقریباً 50 فیصد روانگیاں منسوخ ہو گئیں۔ کئی بین الاقوامی ایئرلائنز نے ریاض کی پروازیں معطل کر دیں۔
یہ واقعہ اس ہفتے حوثیوں کی جانب سے سعودی ایئرپورٹس پر سلسلہ وار حملوں کا حصہ ہے۔ اس سے پہلے ابہا اور ریاض ایئرپورٹس پر حملوں میں تین افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے (بشمول سوڈانی، مصری اور الجزائری شہری)۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ یہ سعودی عرب کی یمن میں فوجی مداخلت کا جواب ہے۔ سعودی عرب حوثیوں کے خلاف بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت کرتا ہے۔